تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 421
احمدیت۔غیروں کی نظر میں برطانوی مغربی افریقہ میں کشتر مالی مسلمانوں کے علاوہ مسلمانوں کا ایک اور نسبتا چھوٹا گردہ ہے۔سجو احمدیہ تحریک کے پیروکار ہیں۔مغربی افریقہ میں یہ تحریک بیسویں صدی کی دوسری دہائی کے آخری سالوں میں داخل ہوئی۔اور تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے۔اور عیسائیت اور لا مذہبیت سے تعلق رکھنے والے لوگوں کو اپنے اندر سمور رہی ہے۔اس کی رفتا بہ تر تی گولڈ کوسٹ میں بہت نمایاں ہے جہاں ۱۹۳۱ میں اس کے پیرو کاروں کی تعداد ۱۰ار تھی۔جبکہ ۱۹۴۸ ء میں یہ تعداد ۵۷۲ ۲۲ ہوگئی۔ایسا ہی اضافہ جس میں بعض اوقات پر خانی اولوں کی سی شدت پیدا ہو جاتی ہے ، پورے برطانوی مغربی افریقہ میںدیکھا جاسکتا ہے۔جو ایک نمایاں طور پر کامیاب بشن کی مرہون منت ہے۔ایک ایسا مشن جو نانفری سکول کے معیار یک نہایت شاندار تعلیمی سہولتیں فراہم کرتا ہے۔سوائے گیمبیا کے ، جہاں ملک میں داخلہ کی اجازت سے متعلق ایک حمد می مشنری کی درخواست حال ہی میں سرکاری طور پر یہ کہ کر رد کر دی گئی ہے کہ پہلے ہی گیمبیا میں مختلف مذاہب کافی تعداد میں موجود ہیں۔احمدیہ تحریک کو اس کی پر جوش تبلیغی مساعی اور اپنی محمد در تنظیموں میں مثبت اور مربوط سما مجاز تی کے پروگرام کے باعث بہت زیادہ عزت اور وقار حاصل ہوا ہے۔تاہم گڑ مسلمانوں کے نزدیک احمدی کا فر (بے دین ہیں۔اور عیسائیوں اور یہودیوں سے کمتر ہیں۔بلکہ بے دینوں ہی کی طرح میں کیونکہ اُن کا دعویٰ ہے کہ اُن کے بانی ، مرزا غلام احمد کی تین چینیں ہیں۔اور آپ محمد، یسوع مسیح اور کرشن کے برونز ہیں۔سیاسی نقطۂ نظر سے احمد یہ تحریک کسی پارٹی کا بھی ساتھ نہیں دیتی۔بنشر طیکہ تبلیغ کی آزادی ہو۔احمدی بر سر اقتدار طاقت کا ساتھ دینا پسند کرتے ہیں۔خواہ وہ کوئی بھی ہو۔جبکہ انفرادی یزد کلڈ۔مانچسٹر گارڈین سے اخذ کہ وہ جو فری ٹاؤن برطانوی مغربی افریقہ کے ڈیل سیل کے شماره مورخہ ۲۶ جولائی ۱۹۵۶ء میں شائع ہوا۔: