تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 418
۴۰۳۔۔چوہدری مسعود احمد صاحب شاد نے پہلی سہ ماہی میں ۲۲۰ میں سفر کر کے پیغام حق پہنچایا۔آپ نے آٹھ پونڈ کا لٹریچر فروخت کیا اور آپ کی تحریک پر مسٹر قاسم نے مسلم پریس کے لیے ۵۰۰ پونڈ کی رقم پیش کی الہ آپ نے باجے بو کے حلقہ کی سات جماعتوں کا بھی دورہ کیا۔لیکچر دیئے اور لٹریچر تقسیم کیا۔آپ نے ماہ جون ۱۹۵۶ ء میں مگبور کا۔کے حلقہ کا چارج لیا نیز خدا کے ایک نئے گھر کی تعمیر کے لیے سو ، پونڈ کی رقم جمع ہوئی اور آپ کی نگرانی میں تعمیر کا کام ہوا تے آپ لکو ابائی ، روچین ، گانڈا، یونی با نا، ماٹوٹو کا ، ما سابو لگو بھی تشریف لے گئے۔یونی بانا میں آپ کے ذریعہ ۱۲ر افراد نے بیعت کی۔مگبور کا میں ۲۷ را فراد کو سلسلہ کا لٹریچر دیا جن میں شمالی صوبہ کے ایجو کیشی بسیار بڑی میں شامل تھے کہیے قاضی مبارک احمد صاحب انچارج طلقہ ہونے ۲۵۰ میل کا سفر کر کے ما ہو۔او بانڈا۔ماکوما نانیا میں لیکچروں کے ذریعہ بغام حق پہنچایا۔اس دوران پانچ افراد نے بیعت کی۔انفرادی طور پر تامنی صاحب نے ایک سو بیس افراد سے تبادلہ خیالات کیا جن میں ریاستوں کے پیرا مونٹ چیف، وزراء اور فرم ایجنٹس ، ہیلتھ آفیسر، ڈائریکٹر تعلیم نیز کالجوں اور سکولوں کے طلباء شامل تھے۔اس سال سیرالیون کے ایک مخلص اور مخیر احمدی مسٹر علی رد میر نہ صاحب نے اپنا شاندار مکان جو ایک ہزار پونڈ سے بھی زیادہ مالیت کا متھا سلسلہ احمدیہ کے لیے وقف کیا شے جماعت احمد یہ سیرالیون کا آٹھواں سالانہ اجتماع اس سال ۲۱ ۲۲ ۲۳ رودسمبر ۱۹۵۶ رکو ہوا۔جلسہ میں غیر احمدی معززین بھی تشریف لائے۔جلسہ کے دوسرے روز ۴۔احباب نے بیعت کی۔مکرم مولوی محمد صدیق صاحب امرتسری انچارج مبلغ سیرالیون نے اختتامی خطاب میں فرمایا کہ کہ دنیا اس دقت اسلام کے خلاف بر سر یہ کار ہے لیکن خداتعالی اس کی اسیمائی ظاہر کہ رہا ہے۔اس غرمن کے لیے خدا تعالیٰ نے حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کو بھیجا۔حضور کی وفات کے بعد اشاعت دین کی له الفضل ۱۸ مئی ۱۹۵۶ء مست کالم ۲ : الفضل ۲۶٫۲۵ جولائی ۱۹۵۶ ء الفضل ٢ دسمبر ۱۹۵۶ د م : " الفضل ۱۸/۱۰ مئی ۱۹۵۶ء الفضل ۶ ستمبر ۹۵۶ او ما