تاریخ احمدیت (جلد 18)

by Other Authors

Page 409 of 846

تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 409

۳۹۴ نبی کے خلات بابو کے ریمارکس کا کوئی نوٹس نہیں لیا۔ان کے نزدیک اس کی کوئی اہمیت نہیں ہے اگر چہ انہوں نے گورنہ جنرل سے احتجاج کیا لیکن انہوں نے N CNC کے لیڈر سے کوئی بات نہیں کی (ترجمہ) یونیورسٹی کالج گولڈ کوسٹ کے لیکچرار J۔H۔PRICE نے دو اسلام مغربی افریقہ میں کے زیر عنوان ایک مضمون لکھا جس میں جماعت احمدیہ کی تبلیغی فتوحات کا خاص طور پر ذکر کیا۔یہ مضمون ڈیلی ٹائمز کر نائیجیریا) نے اپنی ۱۳ بولائی تار کی اشاعت میں بھی دیا انہوں نے لکھا : - مد مالکیوں کے علاوہ مسلمانوں کا ایک اور فرقہ جماعت احمد یہ بھی ہے جو اپنی تبلیغی مساعی کے لحاظ سے مشہور ہے اس کا مرکزہ پاکستان میں ہے جماعت احمدیہ کا نفوذ امریکہ میں میں ہوا۔به جماعت تیزی کے ساتھ ترقی کے راستہ پر گامزن ہے۔عیسائی اور مشرکین دونوں میں سے لوگ جوق در جوق اس میں داخل ہو رہے ہیں۔اس جماعت کی ترقی کی کہ فتار کا اندازہ اس سے ہو سکتا ہے کہ ۱۹۳۱ء میں اس کے ممبروں کی تعداد ۱۱۰ ۳ محھتی۔جب کہ ۱۹۲۶ء میں یہ تعداد ۲، ۲۲٫۵ تک پہنچ چکی تھی۔احمدیہ مشن کی نمایاں کامیابی میں اس کی تعلیمی سرگرمیوں کا بھی دخل ہے جس میں ثانوی تعلیم بھی شامل ہے۔اس تعلیمی مساعی کو مغربی افریقہ کے تمام علاقوں میں محسوس کیا جا رہا ہے البتہ گیمبیا میں ان کا اثر نہیں پہنچا۔کیونکہ گیمبیا نے احمدی مبلغ کے داخلہ کی درخواست یا ضابطہ سرکاری طور پر یہ کہ کہ ہر د کر دی ہے کہ گیمبیا میں پہلے ہی کانی مذاہب موجود ہیں۔جماعت احمد یہ حیرت انگیز طور پر ترقی کر رہی ہے وہ تبلیغ کا جوش رکھتی ہے اس کے پاس اپنے مبروں کی سماجی ترقی کے لیے ٹھوس پر دگرام ہے۔یہ جماعت ملکی سیاسیات میں دخل نہیں دیتی۔بشرطیکہ مذہبی آزادی ہو۔اور اس صورت میں حکومت وقت کی خواہ کسی مذہب وملت سے تعلق رکھتی ہو۔حمایت کرتی ہے افراد کے سیاسی عقاید کو اس کی ضمیر پر چھوڑتی ہے سے شیخ نصیر الدین احمد صاحب نے ملک کے متعدد مقامات کے دورے کیے۔ابادان کے سات روزہ قیام کے دوران پلک تقاریر کیں ، بعض سکولوں کا معائنہ کیا اور اخبارات کے ایڈیٹروں سے ملاقات 21 به روزنامه الفضل ربوده ۶ر دسمبر ۱۹۵۶مه صفحه ۴/۳