تاریخ احمدیت (جلد 18)

by Other Authors

Page 399 of 846

تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 399

۳۸۴ 1 ! پڑھنے سے انسان کی جہالتیں دور ہو جاتی ہیں۔۔۔۔عیسائی ان کے حملوں سے خوفزدہ ہیں اوران ا کے دھوکے اور غریب بھوسے کی طرح اُڑتے ہوئے نظر آتے ہیں۔مسلمانان مشرقی افریقہ تعلیم کے میدان میں بہت پیچھے تھے جس کا اصل موجب شیوخ تھے ہو مسلمان بچوں کو سکول میں پڑھنے سے روکتے تھے کیونکہ ان کے قریب ایسا کہ نا ایمان کو خطرہ میں ڈالنے کے مترادف تھا اس کے بر عکس احمدیہ مشن بڑی جواں مردی اور استقلال سے مسلمانوں کی تعلیمی ترقی کا بیڑا اٹھائے ہوئے تھا چنانچہ اس سال جماعت احمدیہ کی کانفرنس میں خاص طور پر ایک قرار داد پاس کی گئی میں میں نا مانیکا کی حکومت کو پر زور الفاظ میں توجہ دلائی گئی کہ وہ مسلمانوں کی تعلیم کا انتظام کرے به خبر انگریزی اور سواحیلی اخبارات میں چھپی اس کے بعد حکومت کا جواب بھی چھپا کہ وہ مسلمانوں کی امداد کے لیے تیار ہے اس سے مسلمانوں میں قدرے بیداری پیدا ہوئی۔کینیا اور یوگنڈا کی حکومتوں پر بھی اس کا اچھا اثر ہوا اور انہوں نے مسلمانوں کی تعلیمی حالت بہتر بنانے کی سیکیمیں بنائیں۔جون ۱۹۵۶ء میں مولانا شیخ مبارک احمد صاحب اور مولوی محمد منور صاحب کسوموں کے علاقہ میں تشریف لے گئے اور احمدی احباب کے مشورہ سے احمدی بچوں کے لیے ایک سکول جاری کرنے کا فیصلہ کیا۔مولوی محمد منور صاحب نے اخبار احمدیہ کے ۴ صفحات سائیکلو سٹائل کر کے جماعتوں میں بھجوائے آپ نے خدام الاحمدیہ نیر دنیا کے زیر انتظام تبلیغی کلاس جاری کر کے نو جوانوں کو مسائل سے آگاہ کیا۔نیز ترجمہ القرآن اور دوسرے بڑیچر کے ۵۸۰ پیکٹ بھجوائے۔ایسے سینیا میں ایک احمدی سے ظالمانہ سلوک کیا گیا۔اس کے بارہ میں آپ نے انگریزی پریس کو خطوط لکھے۔ٹانگا نی کا پریس نے اس خبر کو نمایاں شائع کیا جس سے جماعت کا چرچا ہوا لے مولوی عنایت اللہ صاحب خلیل نے دوران سال ۲۰۰۱ میل تبلیغی سفر کیا۔۲۰ دورے کیے۔تین ہزار افراد کو زبانی تبلیغ کی۔چار ہزار سے زائد اشتہارات تقسیم کیسے اور ۱۵۷ افراد بیعت کر کے داخل احمدیت ہوئے۔اس سال آپ کے حلقہ میں مخلص احمدیوں نے مالی جہاد میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور راه الفضل ۲۱ و ۲۱ مارچ ۱۹۵۷ء والفضل ۲۳ جون ۱۹۵۷ء