تاریخ احمدیت (جلد 18)

by Other Authors

Page 383 of 846

تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 383

تو پوزیشن یہ ہے کہ پاکستان کے احمدی پاکستان گورنمنٹ کے وفادار ہیں اور ہندوستان کے احمدی ہندوستان کی قومی گورنمنٹ کے اخلاص کے ساتھ وفا شعار ہیں۔مگر ان بیچاروں کی پاکستان اور ہندوستان دونوں جگہ نازک پوزیشن ہے۔پاکستان میں تو یہ وہاں کے مسلمانوں کے مظالم کا شکا بہ ہوتے رہتے ہیں کیونکہ پاکستان کے مسلمان احمدیوں کو مسلمان ہی نہیں سمجھتے۔اور ابھی حال میں چو ہدری محمد علی سابق وزیر اعظم پاکستان کی نئی سیاسی پارٹی سے بعض اصحاب نے صرف اس وجہ سے استعفیٰ دے دیا کہ یہ پار ٹی احمدیوں کو بھی مسلمان سمجھتی ہے اور کچھ نہیں کہا جا سکتا کہ غیر احمدی مسلمانوں کا نذدہی مالیخولیا کب دریاں کے احمدیوں کے خلاف پہلے کی طرح پھر بہار شروع کر دے اور ہندوستان میں احمدیوں کی پوزیشن یہ ہے کہ ان کا مسلمان ہونا اور مسلمان ہوتے ہوئے مشرقی پنجاب رجہاں گنتی کے صرف چند مسلمان اب باقی رہ گئے ہیں) میں رہنا ہی ہندووں اور سکھوں کی نگاہ میں اتنا بڑا جرم ہے جسے قابل معافی قرار نہیں دیا جاتا اور یہ واقعہ افسوسناک ہے کہ مشرقی پنجاب کا قریب قریب ہر سرکاری افسران کو ٹیڑھی نظروں سے دیکھتا ہے اور اگر کبھی موقع ملے تو نیش زنی سے باز نہیں آتا۔جس کا نتیجہ یہ ہے کہ ان بیچاروں کے لیے ہر روز کوئی نہ کوئی نئی مصیبت پیدا ہوتی رہتی ہے چنانچہ اس سلسلے کے چند واقعات سن لیجیے۔قادیان کے احمدی حضرات کے کچھ عزیز تو قادیان اور مہند دستان کے دوسرے مقامات میں ہیں اور کچھ رشتہ دار پاکستان میں ہیں اور سب سے بڑھ کہ یہ کہ ان کے مذہبی پیشوا یعنی موجود ہ لیفہ پاکستان کے مقام ربوہ (ضلع جھنگ) میں ہیں اور مذہبی اعتبار سے قادیان کے احمدیوں کا یہ فرض اور ایمان ہونا چاہیئے کہ وہ اپنے پیٹوا کے ساتھ روحانی تعلق قائم رکھیں اور وہ وہاں کے مذہبی جلسوں وغیرہ میں شامل ہوں مگر گورنمنٹ ہند ان کو پاسپورٹ دینے سے انکار کرتی رہی جس کی وجہ یہ تھی کہ ان لوگوں نے حبیب کبھی پاسپورٹ کے لیے درخواست دی اور یہ درخواست ضلع گورداسپور کے حکام کے پاس رپورٹ کے لیے بھیجی گئی تو مقامی پولیس کے چھوٹے افسروں نے ان کو پاسپورٹ دینے کے حق میں رائے نہ دی کیونکہ ان کے مسلمان ہونے کے باعث ان کو ہندو اور سکھ جرائم پیشہ قوم میں سے سمجھتے تھے اور ایسی رپورٹوں کی بنیادوں پر ہی ان کو پاسپورٹ دینے سے انکار کر دیا جاتا۔چنانچہ چند برس ہوئے ان کے بعض لیڈر جب دہلی آئے اور انہوں نے حالات بتائے تو نہ صرف ان پر کیے جا رہے اس ظلم کے خلاف ریاست میں لکھا گیا بلکہ ایڈیٹر اور ریاست نے سردار پرتاب سنگھ کیبردن وزیر اعلی پنجاب !