تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 382
۔میں فت روزہ خدام الدین لاہور نے دار اپریل ۱۹۰۰ ء کی اشاعت میں مصر پر مولانا ظفر علی خان کی دفات کا تذکرہ کرتے ہوئے لکھا:۔ہماری یہ دیانتدارانہ رائے ہے کہ پاکستان میں آج کوئی ادیب، خطیب اور بدیہہ گو شاعر مولانا ظفر علی خان کا ہم پلہ موجود نہیں۔مولانا ظفر علی خان کے اختبار "زمیندار" کا صرف ایک پہلوا در اس کی صرف ایک خدمت کا اعتراف بنظر استحسان دیکھا جاتا ہے اور اس کے لیے آنکھیں جھک جاتی ہے۔جو اس نے امت مرزائیہ کے تعاقب اور عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ کے سلسلہ میں انجام دی تھی۔اس کے علاوہ مختلف شخصیات اور جماعتوں کے خلاف مولانا ظفر علی خان اور ان کے اختبار زمیندار کی بو محاذ آرائی اور نام بندی رہی ہے آج ان کا نام لیوا کوئی نہیں اور نہ ہی زمیندار سمیت ڈھو بڑے سے ان کا نہیں سراغ اور نشان ملتا ہے آخر یہ کیوں ہوا۔فاعتبروا یا اولی الابصار۔“ شورش کا شمیری صاحب نے اپنے رسالہ چٹان ۲۶ دسمبر ۶۱۹۶۰ صر۳ کالم ۲ پر مولانا ظفر علی خان کی وفات کا ذکر کرتے ہوئے لکھا : - دور مولانا ظفر علی خان کی اندوہ مناک موت بھی ہم نے دیکھی ہے جنازہ میں ایک بیٹا ، ۲ پوتے ، ہمین نوکر اور چار نیاز مند تھے کل دس آدمی اس وقت کی وزارتوں کے بیٹوں نے جو سلوک قلم و زبان کے اس دھنی سے کیا وہ کیسے بھول سکتا ہے " قادیان کے درویشوں کو پاسپورٹ کے سلسلہ میں اس اختبار ریاست وہلی کا ایک قابل قدر سال بہت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔جس پر سردار دیوان نوٹ درویشان قادیان کے متعلق سنگھ صاحب مفتون نے اپنے اخبارہ ریاست میں صدائے احتجاج بلند کرتے ہوئے حسب ذیل نوٹ سپر د قلم کیا۔کیا قادیان کے احمدی غیر وفا شعار ہیں۔مرحوم حضرت مرزا غلام احمد آف قادیان کے مقلد یعنی احمدی مذ ہیگا اور اصول اسر حکومت وقت کے وفا شعار ہیں اور ان کا عقیدہ یہ ہے کہ قرآن کی تعلیم کے مطابق ہر مسلمان کا فرض ہونا چاہیئے کہ وہ بر سر اقتدار حکومت کے دفا شعار ہوں۔چنانچہ اپنے اس مذہبی اصول کے مطابق ہی انہوں نے ہندوستان کی سیاسی سختریوں میں کبھی حصہ نہ لیا اور یہ انگر یزدی سے بھی ہمیشہ تعاون کرتے رہے اور انگریزوں کی حکومت کے خاتمہ کے بعد اب ان کی پاکستان ہیں