تاریخ احمدیت (جلد 18)

by Other Authors

Page 379 of 846

تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 379

۳۶۴ جن میں سے ایک اولڈ بوائے ہونے کا مجھے بھی فخر حاصل ہے میری یہی نصیحت ہے اور یہی پیغام ہے کہ دہ ہر جہت سے دنیا میں ترقی کریں۔اور دین میں بھی ترقی کریں۔اور ہمیشہ دی کو دنیا پر مقدم رکھیں۔اور اپنی درسگاہوں کو مضبوط بنانے اور اسے ترقی دینے اور اسے ملک میں بلکہ دنیا بھر میں ایک مثالی درسگاہ بنا دینے کے لیے پوری جد وجہد سے کام لیں۔میرا دل ہمیشہ اس خواہش سے معمور رہا ہے کہ ہماری یہ درسگاہ ایک آئیڈئیل یعنی مالی درسگاہ ہو جس کے نتائج دین درنیا کے لحاظ سے چوٹی کے نتائج شمار کیے جائیں اور اس میں تعلیم پانے والے بچوں کے متعلق اپنے اور بیگانے دونوں گواہی دیں کہ یہ دین و دنیا میں غیر معمولی ترقی کرنے والے اور اسلام اور احمدیت کا سچا نمونہ پیش کرنے والے اور متلی کاموں کے ہر میدان کے بہادر سپوت ہیں۔اللہ تعالیٰ سب کے ساتھ ہو۔آپ کو اپنی رضا کے ماتحت کام کرنے کی توفیق دے۔اور آپ کا حافظ و ناصر رہے۔آمین و السلام خاکسار مرزا بشیر احمد ربوه ۲۶ ۲۷ نومبر ۱۹۵۶ ء کو بر صغیر کے مولانا ظفر علی خاں صاحب کی عبرتناک وفات مشہور اور معانی مولانا ظفر ال علی خالصاحب ایڈیٹر "زمیندار" انتقال کر گئے۔آپ کے والد ماجد مولانا سراج الدین صاحب کو حضرت مسیح موعود کی زیارت کا شرف حضور کے عہد شباب میں حاصل ہوا۔اور آپ عمر بھر حضور کی پارسائی اور تقومی شعاری کے معترف رہے۔اور حضورہ کی وفات پر نہایت عمدہ ریویو اپنے قلم سے لکھا ہے مولانا ظفر علی خاں صاحب بھی اوائل میں جماعت احمدیہ کی دینی خدمات کو تنظر استحسان دیکھتے تھے۔جس پہ اخبار " زمیندار کے پڑانے فائل گواہ ہیں۔مگر پھر آپ مخالفین سلسلہ کی صعف اول میں شامل ہو گئے۔بایں ہر ۱۹۳۵ ء میں جب آپ کو آل انڈیا مسلم لیگ نے ملک کے مرکزی انتخاب میں اپنا ٹکٹ دیا۔تو صدیوں نے تحریک پاکستان سے والہا نہ تعلق کی بناء پہ قیام پاکستان کے لیے اپنی کو درش ویا ۱۹۵۳ء کی ایجی ٹیشن میں سرگرم حصہ لینے کے بعد آپ فاریح کی بیماری میں مبتلا ہو گئے۔اور نہایت ہو۔به روزنامه الفضل ربوه ۲۶ ستمبر ۱۵۶ء سے متن کے لیے ملاحظہ ہو تاریخ احمدیت جلد سوم ماه