تاریخ احمدیت (جلد 18)

by Other Authors

Page 378 of 846

تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 378

ساتھ وفاداری کے جذبات کے مانخت درس گاہ کی تہ تی اور اس کی نیک روایات کو زندہ رکھنے کے لیے کوشاں ہیں۔تعلیم الاسلام ہائی سکول کی بنیاد حضرت مسیح موجود علیہ السلام کے منشاء کے ماتحت آج سے زاید از نصف صدی قبل قادیان میں رکھی گئی تھی۔اور جیسا کہ اس کے نام سے ظاہر ہے اس کی عرض و نایت اسلام کی تعلیم کو پھیلانا اور جماعت احمدیہ کے نوجوانوں میں اس تعلیم کو راسخ کرنا تھی۔جو احمدیت کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے اس زمانہ میں ظاہر اور قائم فرمائی ہے۔مسلمان عملاً ایک مردہ قوم بن چکے تھے۔اور اسلام بہت سی غلط روایات اور غلط تشریحات کی وجہ سے گویا ایک سویا ہوا مذہب بن گیا تھا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ و السلام نے خدا سے الہام پا کر اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نور سے روشنی حاصل کر کے اسلام کو دوبارہ زندہ کیا۔تا کہ اس کا کھویا ہوا وقار اور کھوئی ہوئی طاقت وربارہ عود کر آئے اور یہ قرآنی وعدہ اپنی شان کے ساتھ تکمیل کو پہنچے کہ ھو الذی ارسل رسوله بالهدى ودين الحق ليظهره على الدين كله۔اس مقصد کے ماتحت تعلیم الاسلام ہائی سکول کی غرض یہ تھی کہ احمدی نوجوانوں کو سچا مسلمان بنائیں۔اور ان کے اندر اسلامی زندگی کی روح پھونکیں۔اور پھر ان کے ذریعہ سے دنیا بھر میں اس نور کی اشاعت کریں۔اور جوا ولڈ بوائز ایسوسی ایشن تعلیم الاسلام ہائی سکول کے سابق طلباء کی قائم ہو۔اس کا بھی اولین فرض یہ ہے کہ اپنی لائنوں پر اپنے سکول کی روایات کو زندہ کر کے دنیا میں ہدایت اور روشنی پھیلانے کا ذریعہ بنیں۔ہر کیرکٹر بر درسگاہ کا ایک نمایاں کمر کر ہوتا ہے ہماری اس درسگاہ کا کیرکٹر حضرت مسیح موعود علی الصلوة والسلام کے عہد میں مذکور ہے۔جو آپ بیعت کے وقت لیا کرتے تھے۔یعنی میں دین کو دُنیا پر مقدم کروں گا" اس مقدس عہد کے الفاظ نہایت درجہ پر حکمت ہیں اور ان میں یہ نہیں بتایا گیا کہ میں دنیا کو چھوڑ کر راہب اور تارک الدنیا بن جاؤں گا۔بلکہ یہ حکیمانہ فلسفہ بیان کیا گیا ہے کہ میں دنیا میں رہتے ہوئے اور دنیا کے کاموں میں حصہ لیتے ہوئے اور دنیا میں اپنے لیے اور اپنی جماعت کے لیے ترقیات کا راستہ کھولتے ہوئے ایسی زندگی اختیار کروں گا کہ جہاں بھی دین اور دنیا کے مفاد کرائیں گے وہاں میں دین کو مقدم کروں گا۔اور دین کی خدمت کو اپنا اولین فرض سمجھوں گا۔پس اسکول کے اولڈ بوائز سے