تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 363
۳۴۸ خبار مذکور نے ، ا فروری ستر کی اشاعت میں مباہلہ سے متلی خودتو چھاپ دیا۔مگر اگے پرچہ میں انا رائے یہ ظاہر کی کہ :۔- جہانتک ہم نے ان دنوں اس مسلہ پر غور کیا ہے کہ مباہلہ شرعی حیثیت کیا ہے ؟ ہمارے نزدیک حسب ذیل نکات حل طلب ہیں :- کیا مباطلہ کا چیلیچ پرانتی دے سکتا ہے ؟ - کیا مباہلہ مشر عا معیار حق وباطل ہے ؟ کیا مباہلہ کے بعد ضروری ہے کہ خرقتی عادت کے طور پر کوئی ایسا نشان ظاہر ہو جس کے ذریعہ زیر بحث مسئلہ کے بارے میں عوام کو قطعی رائے قائم کرنے کی سہولت میسر آئے " المیز نے یہ بنیادی اور اہم نکات اٹھانے کے بعد چند تاریخی شہادتیں جماعت احمدیہ کے استحکام اور روز افزوں ترقیات پر پیش کیں اور چنیوٹی صاحب اور ان کے ہم نوا علما ءکو عبرت دلانے کیلئے یہ حیرت انگیز اعتراف کیا کہ : - نہ ہمارے بعض واجب الاحترام بزرگوں نے اپنی تمام تر صلاحیتوں سے قادیانیت کا مقابلہ کیا۔لیکن یہ حقیقت سب کے سامنے ہے کہ قادیانی جماعت پہلے سے زیادہ مستحکم اور وسیع ہوتی گئی۔مرزا صاحب کے بالمقابل جن لوگوں نے کام کیا اُن میں سے اکثر تقویمی ، تعلق باشد دیانت، خلوص، علم اور اثر کے اعتبار سے پہاڑوں جیسی شخصیتیں رکھتے تھے۔سید نذیر حسین صاحب دہلوی، مولانا انور شاہ صاحب دیوبندی ، مولانا قاضی سید سلیمان منصور پوری مولانا محمد حسین صاحب بٹالوی ، مولانا عبد الجبار غزنوی ، مولانا ثناء اللہ صاحب امر شهری اور دوسرے اکا بر رحم الله وغفر لہم کے بارے میں ہمارا حسن ظن یہی ہے کہ یہ بزرگ قادیانیت کی مخالفت میں مخلص تھے اور ان کا اثر و رسوخ اتنا زیادہ متھا کہ مسلمانوں میں بہت کم ایسے اشخاص ہوئے ہیں جو اُن کے ہم پایہ ہوں اگر چہ یہ الفاظ سننے اور پڑھنے والوں کے لیے تکلیف دہ ہوں گے اور قادیانی اخبارات در مسائل بھی چند دن اپنی تائید میں پیش کر کے خوش ہوتے رہیں گے لیکن ہم اس کے باوجود اس تلخ نوائی پر مجبور ہیں کہ ان اکا بر نور الله مر قدیم و برضا جہم کی تمام کاوشوں کے باوجود قادیانی جماعت میں اضا ہوا ہے یہ (حاشیہ مت پر)