تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 22
۲۲ ہ اللہ رکھانے مین درویشوں کے خلاف مقدمہ دائر کیا۔ان میں عبد الکریم صاحب خالد بھی تھے آپ اپنے مکتوب جولائی 1907 میں تحریر فرماتے ہیں :- مد قادیان میں اللہ رکھانے جو فتنہ برپا کیا۔اور جس کے باعث وہاں کی جماعیت کون ہے جن تکالیف کا سامنا کرنا پڑا۔اس کا حضور کو بخوبی علم ہے۔قادیان میں اللہ رکھنا نے جن لوگوں کے خلاف مقدمہ دائر کیا۔ان میں سے ایک خاک بھی تھا۔اس دوزمان میں جہاں جماعت کو کافی اخراجات کہ نے پڑے۔وہاں جماعت کو کافی پریشانیان کا یہ بھی اٹھانی پڑیں۔مقدمہ کے دوران میں اللہ یہ کھا لگا تار اس مکان کی چھت پر چڑھ کر عشاء کی نمانے کے جالب بعد تقریریں کرتا رہا۔جو انجمن نے اسے رہنے کے لیے دیا تھا۔۔یہ مکان قاریان ما علام حکم صاحب مرحوم کا تھا۔جو ڈھاب کے نزدیک اور سڑک کے کنانہ نے پرا تھا۔وہ عام گزرگاہ تھی۔جہاں سے ہر ہندو سکھ گزرنے والا اس کی خرافا سنتان رہا۔اور اس تقریر میں گالیوں کے سوا اور کچھ نہ تھا۔اس کے علاوہ جب وہ بہت۔مبارک اور بہت اقصٰی میں نماز کے وقت آتا تو وہاں بھی وہ گالیاں نکالتا زستان اور ہمیں سوائے صبر کے اور کوئی چارہ نہ تھا۔پھر جب متعصب مجسٹریٹ نے ہم ہو یا آدمیوں کے خلاف فیصلہ دے دیا۔اور ہم سے ایک ایک سال کیلئے نیک چلنی ہے کی ضمانتیں لے لیں۔تو اس کی شرار نہیں بڑھ گئیں۔آخر حضور نے بھی اسے ہان را سے منگوانے کا انتظام فرما کہ ہمیں اس کے فتنہ سے سنجات درمی یام اللہ رکھا ابھی قادیان میں ہی تھا۔کہ اس کے باغیانہ طرز عمل پر حضرت مصلح موعود نے اُسے اگست ۱۹۲۹ء کو جماعت سے خارج کر دیا۔نیز اُسی کی ایک چھٹی مرقومہ اور اگست ۱۹۴۷ کے لفافے پر تحریر فرمایا۔یہ شخص جھوٹا اور کذاب ہے۔اور اس کے اخراج کے متعلق پہلے لکھا۔جاچکا ہے۔جماعت کے دوستوں کو اس سے ملنے سے بہو کا جائے یہاں الغرض یہ شخص ہو سال تک قادیان میں امن کو تباہ کرنے کی کوشش کرتا رہا۔اور بڑی مشکل سے