تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 21
تقسیم ہند کے بعد شاہ کے ابتداء میں یہ شخص کسی نہ کسی طرح قادیان پہنچ گیا۔اور میاں عبد الوہاب صاحب کا دست راست بن گیا۔چنانچہ عبد الکریم صاحب خالد سابق در دگیش قادیان فرماتے ہیں۔" صدر انجمن احمدیہ کے سٹور سے میاں عبدالوہاب صاحب نے سامان نکلوایا اور انہیں ہندوؤں اور سکھوں کے ہاتھ فروخت کیا۔اس وقت بھی اللہ کیا رکھا ہی تھا۔جو اس معاملے میں اُن کا معاون مھا گئی یه شخص دو سال تک درویشان قادیان کے لئے فتنہ بنارہا۔ایک طرف اس نے حضرت مولوی عبد الرحمن صاحب جیٹ اور صدر انجین احمدیہ قادیان کے ناظر صاحبان سے جنگ شروع کردی اور دوسری طرف غیر مسلموں سے رابطہ پیدا کر کے در ولیوں کا قافیہ حیات تنگ کر دیا۔اور ان کا سا را آرام اور میں حرام کر دیا۔ساری ساری رات یہ درویشوں کو گالیاں دیتا۔اور بالکل نہ تھکتا تھا۔نہ اس کو نیند آتی تھی۔ڈاکٹر میجر بشیر احمد صاحب نے اس کو کچھ دن کے لیے ایک کمرے میں بند کر کے اس پر پہرا لگا دیا۔لیکن پریداروں کی غفلت سے یہ بھاگ نکلا اور پولیس اور عید مسلموں کے پاس پہنچ گیا۔اور بہت سے در ولیتوں پر مقدمہ دائر کر دیا۔جس میں بے گناہ اور معصوم در ولیوں کو سزا ہوئی اور مشکل ضمانتیں ہوئیں۔اللہ رکھا کو قادیان میں غیر مبائعین کی چٹھیاں برابر پہنچتی تھیں کیے خصوصاً مولوی محمد علی صاحب سے اس کی باقاعدہ خط و کتابت جاری رہی۔اور غیر مبالعین کے جوائنٹ سیکرٹری شیخ حمد طفیل صاحب نے مولوی صاحب کا نوٹو بھی بھجوایا۔اور اُن کے رسالے بھی۔جن کا ریکارڈ دفتر نظارت امور عامہ قادیان میں محفوظ کر دیا گیا۔لہ آپ ۱۹۴۷ء سے جون ۱۹۵۲ ء تک بحیثیت درویش قادیان میں مقیم رہے۔سه مکتوب عبدالکریم صاحب خالد جولائی ۱۹۵۷ و از راولپنڈی حضرت مصلح موعود کی خدمت میں یہ خط پہنچا تو حضور نے اس پہ اپنے قلم سے تحریہ فرمایا کہ یہ خط میاں عبدالوہاب اور اللہ رکھا کے متعلق نہایت ضروری ہے۔محفوظ ہے۔ریکارڈ خلافت لامیریری ربوہ ) سے مکتوب ڈاکٹر بشیر احمد صاحب مورخہ ۲۸ جولائی ۱۹۵۶ عر ریکارڈ خلافت کا مہر یر ی ربوہ )