تاریخ احمدیت (جلد 18)

by Other Authors

Page 352 of 846

تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 352

۳۳۷ محترم راجہ نذیر احمد صاحب اپنے والد جناب راجہ غلام حید ر صاحب آن مکہ مصلح مرگور را کی سوانحے کے بارے میں تخریہ فرماتے ہیں۔آپ کی پیدائش اندازاً ستشملہ میں اور وفات ۲۴ اکتوبر ستشملہ میں ہجکہ میں قریباً ، 4 سال کی عمر میں ہوئی۔آپ کے والد صاحب متوسط درجہ کے زمیندار تھے۔آپ نے ہائی سکول کی تعلیم کے دوران میٹرک پاس کرنے سے پہلے ہی مطالعہ کر کے احمدیت قبول کر لی تھی۔آپ کے والد صاحب اور منجھلے بھائی راجہ عبدالحمید صاحب نے شدید مخالفت کی لیکن آپ کی استقامت، دعاؤں اور کوشش اور تبلیغ سے بفضلہ تعالیٰ آپ کے والد صاحب ، دونوں بھائی اور زوری کے متعدد افراد احمدیت میں داخل ہو گئے۔حالانکہ گھر رایگان میں سے بوجہ ہدا یت پسندی تا حالی بہت کم لوگوں نے احمدیت قبول کی ہے۔خود بڑے زرت رسوق سے تبلیغ کیا کرتے تھے۔اور سلسلہ کے مبلغین اور مربیان کے ساتھ دینی مہمات میں بڑے جذبہ سے شامل ہوتے تھے۔حضرت مصلح موعود کیسا تھ بڑی محبت اور عقیدت رکھتے تھے۔مرکز سلسلہ کے ساتھ بھی بڑی وابستگی تھی چنانچہ اپنے دونوں بڑے بیٹوں راجہ بشیر احمد صاحب مظفر اور خاکسار دراجه نذیر احمد ظفر کو قادیان اور ربوہ میں تعلیم دلوائی۔اسی طرح پورے خاندان کو خلافت اور مرکز سے قریب تر رکھنے کی کوشش کرتے رہے۔آپ کے تیرے بیٹے راجہ منیر احم میجر اسکو سرگودہا، اور چوتھے لیے مکرم راجہ نصیر احم مادر کے مبلغ سلسلہ عالیہ احمدیہ حال مقیم یوگنڈا مشرقی افریقہ ہیں۔چار بیٹوں کے علاوہ آپ کے چار بیٹیاں بھی یادگار چھوڑ ہیں۔بفضلہ تعالیٰ سب اولاد اور اولاد در اولاد احمدی ہیں۔" فالحمد للہ علی ذالک۔اگر چہ آپ محکمہ نہر سندھ میں ملازم تھے لیکن ۵۳۴ کے قریب ہماری والدہ صاحبہ محترمہ کے علاج کے سلسلہ میں ہو میو پیتھی سے متعارف ہوئے۔اس کے بعد ہومیو پیتھی کا مطالعہ اور پریکٹس جاری رکھی۔آخری عربی سکھر اور پھر بھیرہ میں باقا عدہ ہومیں متلک کلینک چلاتے رہے۔ونات سے پہلے آپ نے یہ وصیت فرمائی کہ میری اولاد میں سے کوئی ہو میو پیتھک کلینک کو سنبھا نے چنانچہ خاندان نے اس ذمہ داری کا اعزانہ اس عاجز کو بخشا۔اور اب کیور ٹیو میڈلین کمپنی رجسٹرڈ پاکستان ، ہیڈ آفس ربوہ) کے نام سے جو ادارہ دنیا کی خدمت کر رہا ہے۔یہ دراصل آپ ہی کے لگائے ہوئے پودے