تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 330
۳۳۰ کی تقریر نہایت عمدگی کے ساتھ نوٹ کرتے چلے جاتے ہیں۔جس کی بناء پر حضرت خلیفہ اسیح الثانی نے بارہا پسندیدگی کا اظہار فرمایا اور تعریف کی۔ایک دفعہ آپ نے حضرت حافظ روشن علی صاحب کی تقریر لکھی جو وہ فات مسیح علیہ السلام پر بھتی یہ تقریبہ جب آپ نے مرتب کر کے حضرت حافظ صاحب کو سُنائی تو آپ نے بڑی خوشی اور مسرت کا اظہار فرمایا اور آپ پر ان کی نوازشات پہلے سے بھی بڑھ گئیں اور ساری نظریہ سن کر فرمایا یہ تقریہ تو میری ہی ہے مگر مجھے یاد نہیں کہ میں نے اتنی مفصل اور ایسے تسلسل سے یہ تقریر کی تھی۔اسی موقع پر حضرت حافظ روشن علی صاحب نے بہت دعا آپ کے حق میں کی سب سے مبارک واقعہ جو آپ کی زندگی میں ہوا وہ یہ ہے کہ ایک دن حضرت میر محمد اسحاق صاحب حسب معمول مسجد اقصی میں لڑکوں کی کلاس کو پڑھارہے تھے اس کلاس میں آپ بھی شامل تھے۔اتنے میں ایک شخص نے حضرت پیر صاحب کے ہاتھ میں ایک رقعہ دیلہ آپ نے لے کر پڑھا اور آپ کی طرف بڑھا دیا اور بڑی ہی شفقت سے مسکراتے ہوئے ایک لفظ پر انگلی رکھ کر فرمایا یہ پڑھو۔آپ نے وہ لفظ پڑھا جس پر حضرت میر صاحب کی انگلی تھی تو آپ کی خوشی اور مسرت کی کوئی انتہا نہ رہی۔وہ لفظ یہ تھا۔عزیزم غلام نبی “ یہ تخریہ حضرت مصلح موعود کی تھی جو درج ذیل کی جاتی ہے :۔السلام عليكم عزیزم غلام نبی چونکہ خدا تعالیٰ نے میرے سپرد بہت بڑا کام کیا ہے اور میں اب الفضل کو ایڈٹ کرنے کے لیے وقت نہیں نکال سکتا اس لیے چاہتا ہوں کہ کچھ نو جوانوں کو اس کام کے لیے تیار کردوں اور ان کے سپرد یہ کام کر دوں جوئیں خود کیا کرتا تھا۔لیکن قبل اس کے کہ میں کسی اور کو اس کے لیے منتخب کریں تم کو اور نیانہ احمد کو موقع دیتا ہوں کہ اگر تم اپنے آپ کو اس قابل بنا سکو اور اپنی زندگی اس کام کے لیے وقف کر سکو۔اس کے لیے حسب ذیل باتیں ضروری ہیں ۱- کم از کم قرآن کریم کا تر جمہ آنا ضروری ہے اور صحاح ستہ پر عبور ہونا چاہیئے۔-۲- حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی کتب پر عبور ہونا چاہیئے۔غیر مذاہب کی مذہبی کتب کی واقفیت ہونی چاہیئے۔خلیفہ وقت کی اطاعت اور اس سے وابستگی لازمی چیز ہے۔| !