تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 319
۳۱۹ خواب دیکھا جس میں مجھے اپنی عمر ۴۵ سال بتائی گئی۔میں حضرت مسیح موعود کی خدمت میں حاضر ہوا اور روپڑا اور میں نے کہا حضور ! بیعت کے بعد تو میرا خیال تھا کہ حضور کے الہاموں اور مینگوئیوں کیمطابق احمدیت کو جو ترقیات نصیب ہونے والی ہیں انہیں دیکھوں گا۔مگر مجھے تو خواب آئی ہے کہ میری عمر صرف ۲۵ سال ہے۔اس پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا گھبراہٹ کی کوئی بات نہیں اللہ تعالیٰ کے طریق نرالے ہوتے ہیں شاید وہ ۲۵ کو ۹۰ کر دے۔چنانچہ کل جو وہ فوت ہوئے تو ان کی عمر پورے ۹۰ سال کی تھی۔اس طرح احمدیت کی جو ترقیات میں وہ بھی انہوں نے دیکھیں اور جلسے بھی دیکھے۔ان کے چار بچے ہیں۔جو دین کی خدمت کر رہے ہیں۔ایک قادیان میں درویش ہو کہ بیٹھا ہے۔ایک افریقہ میں مبلغ ہے۔ایک یہاں مبلغ کام کرتا ہے۔اور چوتھا لڑ کا مبلغ تو نہیں ، مگر وہ اب ربوہ آگیا ہے۔اور یہیں کام کرتا ہے۔پہلے قادیان میں کام کرتا تھا۔لیکن اگر کوئی شخص مرکز میں رہے۔اور اس کی ترقی کا موجب ہو تو وہ بھی ایک رنگ میں خدمت دین ہی کرتا ہے۔پھر ان کی ایک بیٹی بھی ایک واقف زندگی سے بیاہی ہوئی ہے باقی بیٹوں کا مجھے علم نہیں ہر حال انہوں نے ایک لمبے عرصہ تک خدا تعالیٰ کا نشان دیکھا۔حبیب ۴۵ سال کے بعد ۴۶ واں سال گزرا ہو گا تو وہ کہتے ہوں گے۔میں نے خدا تعالیٰ کا ایک نشان دیکھ لیا ہے۔میں نے تو پینتالیس سال کی عمر میں مر جانا تھا۔اب ایک سال جو بڑھا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی پیشگوئی کے مطابق بڑھا ہے۔جب چھیالیسویں کے بعد سنتالیسواں سال گزرا ہو گا۔تو وہ کہتے ہوں گے کہ میں نے خدا تعالیٰ کا ایک اور نشان دیکھ لیا ہے۔میں نے پنتالیس سال کی عمر میں مرا نا تھا۔مگر اب دو سال جو بڑھے ہیں تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی پیشگوئی کے مطابق بڑھے ہیں۔جب سنتالیسویں سال کے بعد اڑتالیسواں سال گزرا ہو گا۔تو وہ کہتے ہوں گے میں نے خدا تعالیٰ کا ایک اور نشان دیکھ لیا ہے۔میں نے پنتالیس سال کی عمرمیں مرجانا تھا۔مگر اب تین سال جو بڑھتے ہیں تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی پیشنگوئی کے مطابق بڑھے ہیں۔۔۔بگو یا وہ پنتالیس سال تک برابر ہر سال یہ کہتے ہوں گے کہ میں نے خدا تعالٰے کا نشان دیکھ لیا اور مرسال جلسہ سالانہ پر ہزاروں ہزار احمدیوں کو آتا دیکھ کہ ان کا ایمان بڑھتا ہوگا ہم سے له الفضل ۲۵ نومبر ۱۹۵۹ م ۳ تا ۲۰