تاریخ احمدیت (جلد 18)

by Other Authors

Page 249 of 846

تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 249

۲۴۹ نے باوجود قلیل التعداداور ظاہری اسباب سے محروم ہونے کے کفار پر فتح حاصل کی۔اور خوشی سے مسلمان بھولے نہ سمائے ، لیکن اس وقت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک کونہ میں دعائیں مصروف تھے اور آنکھوں سے آنسو جاری تھے۔ایک صحابی نے دیکھا تو عرض کیا یارسول اللہ یہ دن تو خوشی کا ہے رونے کا نہیں اور آپ رو رہے ہیں اللہ تعالیٰ نے آج اپنے وعدوں کو پورا کر دیا ہے اور رؤساء مکہ کے سروں کو آپ کے قدموں میں لارکھا۔اس پر آپ نے فرمایا بے شک خدا تعالیٰ نے اپنے وعدوں کو پورا کیا ہے اور ہمیں کفار کے مقابلہ میں عظیم الشان فتح نصیب کی ہے۔لیکن کاش یہ لوگ اس دن سے پہلے ایمان لے آتے اور ان کا یہ حشر نہ ہوتا یہ کیفیت تھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قلب مبارک کی جس کی وجہ سے خدا تعالیٰ نے بھی آپ کو فرمایا لَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَفْسَكَ الا يَكُونُوا مُوْمِنِينَ " کہ شاید تو اس وجہ سے کہ کفار ایمان نہیں لائے اپنے نفس کو ہلاکت میں ڈال رہا ہے یہی محبت اور جذبہ بنی انسان کے لیے ہر مسلمان اور ہر احمدی میں پیدا ہونا چاہیے۔اس کے بغیر احمدیت کا کوئی فائدہ نہیں۔جہاں کہیں تبھی ہم ہوں ہمارا دل اس وجہ سے کڑھتا رہنا چاہیئے کہ یہ لوگ سچائی پر ایمان کیوں نہیں لائے۔کیوں اس سے دور چلے گئے وہ کیوں اس ہستی کو نہیں دیکھ۔ہے جس کو اسلام اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نور کی برکت کے نتیجہ میں ہم دیکھ رہے ہیں۔اگر ہمارے اندر یہ جذبہ پیدا ہو جائے تو دنیا ہماری باتیں سننے پر مجبور ہو جائے گی۔اور اس کے بغیر انہیں کوئی چارہ نہیں ہو گا سو آپ بنی نوع انسان کی مدد کا سچا جذ بہ اپنے اندر پیدا کریں اور اس جذبہ کے ماتحت انہیں احمدیت کے قریب لانے کی کوشش کریں اگر آپ اس جذبہ کے ماتحت تبلیغ کریں گے اور جب تک وہ ایمان نہ لائیں آپ کا دل کڑھتا رہے گا تو خدا تعالیٰ آپ کی کوشش میں برکت دے گا اور ایسے حالات پیدا کر کر دے گا کہ دوسرے لوگ آپ کی باتوں کو سنیں گے اور احمدیت کے نور سے منور ہونے کے لیے اپنے آپ کو اس جماعت سے وابستہ کر لیں گے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام نے قائم کی ہے اور اسی میں شامل ہو نے میں نجات ہے ، له الشعراء : ٢ : له روزنامه الفضل ربوه ۲۶؍ دسمبر ۱۹۵۶ ۶ صفحه ۶۱۴