تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 243
۲۴۳ اور کوشش کرو کہ یہ کام نسلاً بعد نسل چلتا چلا جادے۔اور اس کے دو ذریعے ہو سکتے ہیں ایک ذریعہ تو یہ ہے کہ اپنی اولاد کی صحیح تربیت کی جائے اور اس میں خلافت کی محبت قائم کی جائے۔اس لیے میں الطفال الاحمدیہ کی تنظیم قائم کی تھی۔اور خدام الاحمدیہ کا قیام عمل میں لایا گیا تھا۔یہ اطفال اور خدام آپ لوگوں کے ہی بچے ہیں۔اگر اطفال الاحمدیہ کی تربیت صحیح ہو گی تو خدام الاحمدیہ کی تربیت صحیح ہوگی اور اگر خدام الاحمدیہ کی تربیت صحیح ہو گی تو اگلی نسل انصار اللہ کی اعلیٰ ہوگی۔میں نے سیڑھیاں بنا دی ہیں آگے کام کہ نا تمہارا کام ہے۔پہلی سیڑھی اطفال الاحمدیہ ہے۔دوسری سیڑھی خدام الاحمدیہ نا ہے۔تیسری سیڑھی انصار اللہ ہے۔اور جو بھی سیڑھی خدا تعا نے ہے۔تم اپنی اولاد کی صحیح تربیت کرد اور دوسری طرف خدا تعالی سے دعائیں مانگو تو چاروں سیڑھیاں مکمل ہو جائیں گی اگر یہات اطفال اور خدام ٹھیک ہو جائیں اور پھر تم بھی دعائیں کرو۔اور خدا تعالی سے تعلق پیدا کرو۔تو پھر تمہارے لیے خوش سے نیچے کوئی جگہ نہیں اور جو عرش پر چلا جائے وہ بالکل محفوظ ہوجاتا ہے۔دنیا حملہ کرنے کی کوشش کرے تو زیادہ سے زیادہ سو دو سوفٹ پر حملہ کرسکتی ہے۔وہ عرش پر حملہ نہیں کر سکتی۔پس اگر تم اپنی اصلاح کر لو گے اور خدا تعالیٰ سے دعائیں کرو گے تو تمہارا اللہ تعالیٰ سے متعلق قائم ہو جائے گا اور اگر تم حقیقی انصار اللہ بن جاؤ تو تمہارے اندر خلافت بھی دائمی طو رپر رہے گی۔اور وہ عیسائیت کی خلافت سے بھی لمبی چلے گی۔عیسائیوں کی تعداد تو تمام کوششوں کے بعد مسلمانوں سے قریباً دگنی ہوئی ہے مگر تمہارے متعلق تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی یہ پیشگوئی ہے۔کہ اللہ تعالی تمہاری تعداد کو اتنا بڑھا دے گا کہ ایک زمانہ ایسا آئے گا کہ دوسرے تمام مذاہب ہندو ازم - بدھ مت - عیسائیت اور شنگوازم وغیرہ کے پیر و تمہارے مقابلہ میں بالکل ادنی اقوام کی طرح رہ جائیں گے۔یعنی ان کی تعداد تمہارے مقابلہ میں ویسی ہی بے حقیقت ہوگی جیسے آجکل ادنی اقوام کی دوسرے مقابلہ میں ہے وہ دن جس کا تمہیں وعدہ دیا گیا ہے۔یقیناً آئے گا لیکن جب آئے گا تو اس ذریعہ سے آئے گا کہ خلافت کو قائم کھا جائے تبلیغ اسلام کو قائم رکھا جائے تحریک جدید کو مضبوط کیا جائے۔اشاعت اسلام کے لیے جماعت میں شغف زیادہ ہو اور دنیا کے کسی کونہ کو بھی بغیر مبلغ کے نہ چھوڑا جائے " سے با روزنامه الفضل ربوده ۲۴ مارچ ۱۹۵۷ء ص ۳