تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 237
از راه شفقت سیدنا حضرت خلیفہ اسیح الثانی المصلح الموعود نے بھی شرکت فرمائی۔اس تقریب میں ممبران ایسوسی ایشن کے علاوہ حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب - مکرم میاں غلام محمد صاحب اختر ناظر اعلیٰ مکرم حافظ عبد السلام صاحب وکیل اعلیٰ حضرت چوہدری فتح محمد صاحب سیال ناظر اصلاح و ارشاد مکرم صاحبزادہ میاں داؤ د احمد صاحب ناظر حفاظت مکرم سیٹھ علی محمد الہ دین صاحب کرم سیٹھ یوسف الہ دین صاحب اور بعض دیگر احباب بھی شریک ہوئے۔تقریب کا آغاز تلاوت قرآن کریم سے ہوا جو جامعتہ المبشرین کے اندر معینی طالبعلم راڈن جوانوں صاحب نے کی بعدہ مولانا ابو العطاء صاحب ایڈیٹر ماہنامہ الفرقان“ نے تقریب کی غرض نمایت بیان کرتے ہوئے اس امر پہ انتہائی خوشی دوسرت کا اظہار کیا کہ سیدنا حضرت۔۔۔۔۔۔۔۔ایدہ اللہ تعالے نے اس تقریب میں شمولیت فرما کہ احمدیہ انٹر نیشنل پریس ایسوسی ایشن کو سر فرانہ فرمایا ہے اور از راہ نواز ش عمران ایسوسی ایشن کو یہ موقعہ عطا فرمایا ہے کہ وہ حضور کی زریں ہدایات اور روح پر در ارشادات سے مستفید ہونے کی سعادت حاصل کریں۔بعدہ مکرم محمد کریم اللہ صاحب نے حاضرین سے خطاب کرتے ہوئے اس امر پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا کہ اس نے انہیں سیدنا حضرت مصلح موعود سے ملاقات اور ربوہ کی زیارت کا شرف عطا فرمایا اس کے بعد آپ نے اس امر پہ روشنی ڈالی کہ صحافت میں کامیابی حاصل کرنے کے لیے جنون کی ضرورت ہے آپ نے کہا ضروری ہے کہ یہ جنون ایک خاص نظر یہ پر مبنی ہو اور وہ نظریہ صحافی کے لیے مقصد حیات کا درجہ رکھتا ہو جب تک کسی صحافی میں یہ جنونی کیفیت اور تڑپ پیدا نہ ہوگی وہ ان مشکلات پر قابو پانے میں کامیاب نہ ہو سکے گا۔سیو ایک اختیار کو کامیابی سے چلانے میں ابتدا پیش آتی ہیں۔اس ضمن میں آپ نے ان مشکلات پر روشنی ڈالی جن سے ابتدائی مراحل میں ہفت روزہ " آزاد نوجوان کو دوچار ہونا پڑا۔آخر میں حضرت امام ہمام المصلح الموعود نے حاضرین سے خطاب کرتے ہوئے محمد کریم اللہ صاحب کے اس نظریہ کی تائید فرمائی کہ صحافت میں کامیابی حاصل کرنے کے لیے ایک جنون کی ضرورت ہے حضور نے فرمایا میں اس بات کی تائید محض عقلی دلیل کی بناء پر نہیں بلکہ عملی تجربہ کی بنا پر کرتا ہوں کیونکہ میری زندگی بھی صحافت سے ہی شروع ہوئی ہے۔میں ابھی چودہ پندرہ سال کا تھا کہ میں نے