تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 234
۲۳۴ سکون اور توجہ سے منا چوک اور جلسہ گاہ کے ارد گرد پولیس کے پہرہ کا انتظام بہت تسلی بخش تھا۔جلسہ کی تقاریہ شائع شدہ پروگرام کے مطابق نہ ہو سکیں کیوں کہ مکرم مولوی محمد سلیم صاحب - مکرم گیانی واحد سین صاحب گیانی عباداللہ صاحب اور مکرم پرو فیسر اختر احمد صاحب تشریف دلا سکے گیانی واحد حسین صاحب کی غیر حاضری غیر مسلم دوستوں نے خاص طور پر محسوس کی۔ان کی پنجابی تقریر بہت مقبول ہوتی ہے۔جلسہ کی تقاریر خدا کے فضل سے مجموعی طور پر اچھی رہیں۔اور ان کا اچھا اثر پڑا۔کریم مولوی ابوالعطاء صاحب اور مکرم مولوی امینی صاحب کی تقاریہ خاص طور پر موثر اور مفید ثابت ہوئیں۔کریم میشیخ بشیر احمد صاحب کی رات کے تربیتی اجلاس میں بہت اچھی تقریر ہوئی۔مریم سلیم الحجابی صاحب (جو ملک شام سے تشریف لائے ہیں) نے جلسہ کے اختتام کے موقع پر اردو میں بہت مؤثر تقریر کی جس میں دعاؤں کی قبولیت کا ذکر بہت عمدہ پیرا یہ میں کیا۔ان کے مخصوص جوشیلے انداز کا غیر مسلموں پر بھی بہت انٹر ہوا فالحمد لله۔حضرت اقدس ایدہ اللہ کا پیغام مکرم مولوی ابو العطاء صاحب نے پڑھ کر سنایا۔اور اس کی نقول سائیکو شامل کر کے احباب میں تقسیم کی گئیں مستورات کے جلسہ کا پہلے دن بیت المبارک اور ملحقہ مکان حضرت۔۔۔۔۔(اماں جان - ناقل) میں اور دوسرے دو دنوں میں جلسہ گاہ کے پاس مولوی عبد المغنی صاحب مجوم کے مکان کے لان میں انتظام کیا گیا۔مردانہ جلسہ کی تقاریر بذریعہ لاؤڈ سپیکر سنی جاتی رہیں گو افسوس ہے کہ ایک دفعہ لاؤڈ سپیکر کی خرابی کی وجہ سے مستورات کو تکلیف ہوئی۔اختامی تقریر مولانا عبد الرحمن صاحب فاضل امیر مقامی نے فرمائی جس میں دعاؤں وغیرہ کے اعلانات اور حکام اور غیر مسلم حضرات کا شکریہ ادا کیا گیا اس سے پہلے میں نے بھی چند فقرات میں دوستوں کو برکات خلافت سے متمتع ہونے اور دیگر ضروری امور کی طرف توجہ دلائی۔اکٹر نظمیں ماسٹر محمد شفیع صاحب اسلم اور اُن کے لڑکے یونس احمد صاحب اسلم درویش نے خوش الحانی سے پڑھیں نظموں میں حضرت ایدہ اللہ تعالیٰ کی نظم۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔میں دنیا میں سب کا بھلاپ ہتا ہوں