تاریخ احمدیت (جلد 18)

by Other Authors

Page 233 of 846

تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 233

۲۳۳ افراد سے درخواست کرتا ہوں کہ اپنے دائرہ تبلیغ کو وسیع کریں اور مہند دوستان کے کونے کونے میں احمدیت کو پھیلا دیں۔اور اس سال میں کم از کم پندرہ مولوی طیار کر کے اطلاع دیں۔اور آئندہ ہر سال میں یہ تعداد بڑھتی چلی جائے یہاں تک کہ سینکڑوں تک جا پہنچے۔یہ تعداد گومشکل ہے مگر ناممکن نہیں۔صرف ضرورت ہے نیک نمونہ کی۔اور متواتر عزم کی۔اللہ تعالیٰ آپ لوگوں کیساتھ ہو۔اور مجھے جلد اطلاع ہے کہ شمال وسطی اور جنوبی ہند میں لاکھوں لاکھ احمدی ہو چکا ہے۔آمین مرز امحمود احمد خلیفہ اسیح الثانی ربوده ۱۹۵۶ ۱۰ راست۔۔اس جلسہ کے کو الفت کی تفصیل صاحبزادہ مرزا رحیم احمد صاحب ناظر دعوت و تبلیغ قادیان کے قلم سے درج ذیل کی جاتی ہے۔خدا تعالیٰ کے فضل سے مرکز قادیان کا ۶۵ واں سالانہ جلسہ بخیر و خوبی انجام پذیہ ہوگیا ہے۔جلسہ کا پہلا دن بادلوں سے گھرا ہوا تھا۔اور موسم کی خرابی کی وجہ سے جلسہ مسجد اقصی میں کہنا پڑا۔موسم کی خرابی اور کچھ شارع عام پیر جلسہ کا انعقاد نہو سکنے کی وجہ سے پہلے دن غیر مسلم متھوڑی تعداد میں۔تشریف لائے لیکن دوسرے اور تیرے دن خدا کے فضل سے چار پانچ سو کی تعداد میں غیرمسلم جلسہ سنتے رہے بوجہ دسہرا کے تہوار کے اس دفعہ ہند و نسبتاً کم تعداد میں شامل ہو سکے لیکن سکھوں نے کافی دلچسپی لی۔شہر کے معززین مردار گور دیال سنگھ صاحب با تجوه با را بلونت سنگھ صحاب صوبیداریٹھا کر سنگھ صاحب۔سردار چن سنگھ صاحب۔سردار پورن سنگھ اور پنڈت ملک راج وغیر ہم شمایل جلسہ ہوئے اور توجہ کے ساتھہ اسلام کی تبلیغ سنتے رہے ہمارے نواحمدی سردار در ثہ سنگھ ڈیر یوالہ سے نوا آدمی ساتھ لائے۔اور جلسہ سنتے رہے۔اسی طرح موضع بھٹیاں سے چھ دوست آئے ملحقہ دیہات سے اور بھی متفرق اصحاب آئے۔لدھیانہ سے مسٹر کانشی رام صاحب چاولہ جو مشہور مصنف ہیں اور ۲، مذہبی اور اخلاقی کتابوں کے مصنف ہیں تشریف لائے اپنی کتابوں کے نمونہ بھی ساتھ لائے۔سرکاری افسران میں سے سردار جھنڈا سنگھ صاحب D۔M۔5 بٹالہ تحصیلدار صاحب بٹالہ اور پولیس افسران بالہ و قادیان تشریف لاتے رہے۔اور سب نے اسلام اور احمدیت کی تبلیغ کو سه بندر ۱۲۰ اکتویه ۶۱۹۵۶