تاریخ احمدیت (جلد 18)

by Other Authors

Page 211 of 846

تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 211

۲۱۱ اس سفر میں حضور کے ڈرائیوروں میں سے مکرم نذیر احمد صاحب - مکرم مرزا انور بیگ صاحب کرم شیخ عبدالحق صاحب اور باڈی گارڈوں میں سے مریم غلام محمد صاحب اور مکرم حسین بحر صاحب اور نوکروں میں سے داؤد احمد صاحب حضور کے ہر کاب تھے اسی طرح خادمات میں سے ساجدہ صاحبہ اس قافلہ میں شامل تھیں۔الحمد للہ کہ اس سفر میں حضور کی طبیعت بہت اچھی رہی۔اور پختہ سڑک کی وجہ سے راستہ بہت آسانی سے کٹا صرف گڑھی حبیب اللہ سے دریائے کنہار کے ساتھ ساتھ کچی سڑک تھی یہ بہت اونیکی نیکی اور گرد و غبار سے آئی ہوئی تھی۔چونکہ حضور کے اس تاریخی سفر کا سلسلہ کے کسی اخبار میں اس سے پہلے ذکر نہیں ہوا اس لیے میں نے مناسب سمجھا کہ احباب کے ان دیاد معلومات اور سلسلہ کی تاریخ میں محفوظ ر کھنے کی غرض سے اسے شائع کر دیا جائے " جماعت احمدیہ بالا کوٹ نے اپنے آقا کے آرام اور چائے وغیرہ کا نہایت عمدہ بند دست کہ رکھا تھا۔سید نا حضرت المصلح الموعود مزار پر دعا کے بعد محمد زمان خان صاحب آن پوڑ می رسید ۱۹۷۴ء) کی درخواست پر اُن کے گھر بھی تشریف لے گئے اُن کا مکان بالا کوٹ سے ایک میل پیچھے کی سڑک سے ذرا بلندی پر واقع تھا۔حضور کار سے اتر کر مکان کی طرف روانہ ہوئے یہ تو میاں غلام محمد صاحب اختر ناظرثانی نے آواز دی کہ کوئی پیاری دوست آگے آئیں۔جس پر سید محمد بشیر شاہ صاحب فوراً آگے پڑھے حضور ان کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر اور سہارا لیے ہوئے ، محمد زمان خان کے مکان تک پہنچے اور چند منٹ کے لیے تشریف فرمار ہے۔انہوں نے حضور کی خدمت بابرکت میں شہد ، اخروٹ اور غیر پیش کیے۔اس کے بعد حضور بھی گلہ کے لیے روانہ ہوئے۔اور گیارہ بجے مع قافلہ اس له الفضل جلسه سالانه نمبر ۱۹۶۰ء مر ۲۱ افر نهند اکبر سید عبد الرحیم شاہ صاحب ہوڑے کہ مانسہرہ گئے اور وہاں سے حضور کے ساتھ بطور خادم سارے سفر میں ساتھ رہے