تاریخ احمدیت (جلد 18)

by Other Authors

Page 201 of 846

تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 201

۲۰۱ قوت اور نئے جوش کے ساتھ جلد جلد فتوحات و ترقیات کی منازل طے کرنے لگی۔مگر نظام خلافت کے باغی ہو مخالفین احمدیت کی آغوش میں پناہ لیے ہوئے تھے۔اور اپنی کامیابی کے خواب دیکھ رہے تھے بہت جلد اپنے انجام کو پہنچ گئے چنانچہ لاہور کے اعداد سی اخبار نوائے پاکستان کر ۱۷ جنوری ۱۹۵۷ء) نے لکھا۔: 1 حزب مخالف نے اگر یہ حقیقت پسند مارٹی کے نام سے اپنی جماعت الگ بنانے کا اعلان کر دیا ہے مگر ہیں وہ بڑے پریشان کیونکہ قادیانی خلافت نے تو منافق غدار - ملحد۔اور دونوں جہان میں خائب و خاسر کا الزام دے کر اپنے سے ان کو عضو فاسد کی طرح کاٹ دیا ہے "۔ب " لاہوری حضرات ان کو دوسرے قادیانیوں ہی کی طرح سمجھتے ہیں ان میں یا تہمی عقیدہ وخیال کا کوئی فرق نہیں ہے صرف تھوڑا سا خلافتی اختلاف ہے اس بنا پر پھر وہ ان کو اپنے قریب تک نہیں پھٹکنے دیتے۔ج : " مرزائیت کی حالت میں مسلمانوں کا ان سے ملنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کیونکر یہ اسلام کے ایک بنیادی و اساسی عقیدہ کے منکر ہیں اور اسلام کے نزدیک یہ مرتد ہیں۔مسلمان کا فر کی ذمی ہونے کی حیثیت سے حفاظت و صیانت تو کر سکتا ہے گر مرتد کا معاملہ اس کے بالکل بر عکس ہے بلکہ مرتد کی سزا اسلام میں نہایت ہی سنگین ہے اس اعتبار سے یہ معاشرہ سے بالکل کٹ چکے ہیں۔و ضَاقَتْ عَلَيْهِمُ الْأَرْض بما رحبت کا ساران کا حال ہے سر زمین پاکستان با وجودا اپنے وسعت د فراخی کے ان پر تنگ ہو گئی ہے۔کیا وہ ملک بدر ہو جائیں آخر جائیں تو کہاں جائیں فرض کہ لیجئے کہ ان میں سے ایک آدمی کسی مکان پر صرف اکیلا ہی رہتا ہے زندگی میں ہزاروں حادثات رونما ہوتے رہتے ہیں اگر وہ بھی کسی حادثہ کا شکار ہو جائے تو ان سے کون انس و مروت کرے گا۔کیا وہ سسک سسک کر نہیں مر جائے گا بالفرض وہ فوت بھی ہو جاتا ہے تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس کی تمیز وتکلفی کون کرے گا۔اس کا جنازہ کون پڑھائے گا۔اور کس کے قبرستان میں وہ دفن کیا جائے