تاریخ احمدیت (جلد 18)

by Other Authors

Page 167 of 846

تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 167

176۔اطاعت کرنے میں اُن کی پیروی کرے گی تاکہ امت کا نظام قائم رہے اور مقرر ہونے والے خلیفہ کی نافرمانی اور بغاوت کا سوال پیدا ہی نہ ہو۔علامہ سعد الدین تفتازانی شرح المقاصد میں دوسرے مشکلمین اور فقہاء کے ہم نوا ہو کر لکھتے ہیں کہ ارباب حل و عقد سے مراد علماء اور قوم کے سردار اور بڑے لوگ ہیں۔امام نووی المنہاج میں فرماتے ہیں کہ اُن میں سے جن کا حاضر ہونا دقت پر ممکن ہو وہ منتخب کریں گے۔امام ابوالحسن الماوردی جنہیں سب سے بڑا قاضی سمجھا جاتا تھا اپنی کتاب الاحکام السلطانیہ (ص) میں لکھتے ہیں :۔ترجمه آن است دو طرح سے منعقد ہوتی ہے۔اول یہ کہ جماعت مسلمین کے ارباب بسط و کشاو کسی شخص کو منتخب کریں۔ہم اس طرح کہ سابق خلیفہ کسی کو نامز دکرے۔علماء کا اس بارہ میں اختان ہوا ہے کہ ارباب بسط رکشا کی کتنی تعداد انتخاب کرنے والی ہونی چاہیئے۔ایک گروہ کا خیال ہے کہ ہر ملک کے عمومی ارباب حل و عقدہ کا اجتماع ہونا چاہیئے تاکہ سب کی رضا مندی ہو۔اور سب منتخب ہونے والے خلیفہ کی خلافت کو اجتماعی طور پرتسلیم کرلیں۔مگر یہ رائے حضرت ابو بکر نے کی خلافت کے مسئلہ سے نا درست قرار پاتی ہے کیونکہ وہاں پہ جو لوگ اس موقعہ پر حاضر تھے ان کے انتخاب سے خلیفہ کا انتخاب کیا گیا تھا۔اور غیر حاضر لوگوں کے آنے کے انتظار میں بیعت کو ملتوی نہیں کیا گیا تھا علماء کی ایک دوسری جماعت کا عقیدہ یہ ہے کہ خلیفہ کا انتخاب ارباب حل و عقد میں سے کم از کم پانچ افراد کے انتخاب سے بھیج ہو جاتا ہے خواہ وہ پانچوں ہی اسس خلافت کے بارے میں اجتماعی طور پر انتخاب کرنے والے ہوں۔یا ان میں سے ایک مقرر کرے اور باقی چار رضا مندی کا اظہار کرنے والے ہوں۔علماء کی اس جماعت کا استند لال دو باتوں پر ہے۔(1) حضرت ابو بحریہ کی خلافت پانچ اصحاب کے اجتماع سے ہوئی تھی۔باقی لوگوں نے ان پانچ کی اس بارے میں اشباع کی تھی۔وہ پانچ حضرات عمر ابن الخطاب ابو عبیدہ بن الجراح - اسيد بن حضير - لبشر من سعد اور سالم مولی ابی حذیفہ رضی اللہ عنہم تھے (۲) حضرت عمر ہو نے اپنے بعد خلافت کے انتخاب کے لیے چھ آدمیوں کی مجلس شوری مقرر کیا تھا اور فرمایا تھا کہ پانچ کی رضا مندی سے ان میں سے ایک کو خلیفہ مقرر کیا جائے۔خلافت