تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 166
144 گرا ہے۔وہ ان دنوں ربوہ آئے ہوئے تھے۔اس خط میں انہیں یہ مشورہ دیا جا رہا ہے۔کہ وہ اختبارات میں مضامین شائع کر کے بی اثر قائم کریں کہ وہ احمدی ہیں تا کہ اپنی سکیم کو بروئے کار لا سکیں۔ان منصوبوں کے ہوتے ہوئے جماعت کے لیے ضروری ہے کہ وہ انتخاب خلافت کے لیے کوئی مبین طریق تجویز کرے۔جماعت پر یہ امر واضح ہے کہ انتخاب کے وقت جماعت کے ہر فرد کا حاضر ہونا ضروری نہیں۔ارباب حل و عقد کا فرض ہوتا ہے کہ وہ اپنے میں سے ایک نہایت موزوں اور متقی شخص کو خلیفہ منتخب کر لیں اور باقی جماعتوں کا فرض ہوتا ہے کہ وہ اس کی وفاداری کا حلف اٹھائیں۔علامہ ابن خلدون لکھتے ہیں۔(ترجمہ) " جب یہ طے ہو گیا کہ امام کا مقدر کہ نا اجتماعی طور پر واجب ہے تو یہ امر فرمن کفا به قرار پایا۔اب ارباب حل وعقد کے ذمہ ہو گا کہ وہ خلیفہ کا تقرر کریں اور بانی جماعت پرواجب ہو تھا کہ سب کے سب خلیفہ کی اطاعت کریں کیونکہ اللہ تعالے نے فرمایا ہے اطیعوا الله واطیعوا الرسول داولی الامر منكم ر مقدمه ابن خلدون صدا ۱۶ مطبوعہ مصر) شیخ رشید رضا صاحب ایڈیٹ المنارہ مصر نے اپنی کتاب" الخلافہ میں اس بات پر سجست کی ہے۔آپ لکھتے ہیں :- (ترجمہ) اہلِ سنت کا اس امر پر اتفاق ہے کہ خلیفہ مقرر کرنا فرض کفایہ ہے اور امت کے ارباب حل و عقد اس تقریر کے ذمہ دار ہیں۔معتزلہ اور خوارج بھی اس پر متفق ہیں کہ ارباب حل و عقد کی بیعت کے ساتھ خلافت قائم ہو جاتی ہے۔یہاں بعض علماء نے اس بارے میں اختلات کیا ہے کہ ارباب حل و عقد کون ہیں ؟ آیا ان سب کی بیعت ضروری ہے یا معین تعداد کی بیعت سے خلافت قائم ہو جاتی ہے یا یہ کہ اس بارے میں تعداد کی کوئی مشرط نہیں۔حالانکہ چاہیئے تھا کہ ان کا ارباب حل و عقد قرانہ دیا جا نا ہر قسم کے اختلاف سے خالی ہو۔کیونکہ اس لفظ کے ظاہری معنے یہ ہیں کہ وہ امت کے لیڈر ہیں اور امت کی اکثریت ان پر اعتماد رکھتی ہے اور ان کے مقام کو ایسے طور پر مانتی ہے کہ جس کو وہ خلیفہ مقرر کریں گے انت اس کی