تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 163
۱۶۳ ہی مقرر فرماتا ہے۔اس کے لیے کوشش کرنا نا جائز ہے۔خلافت ایک مقدس امانت ہے اور جماعت کا فرض ہے کہ وقت آنے پر نئے خلیفہ کا انتخاب کرے۔لیکن ان جاہ طلب اور فتنہ پرداز لوگوں کو مایوس کرنے اور جماعت میں اتحاد کومستحکم کرنے کے لیے یہ ضروری ہے کہ وہ ابھی سے خلافت کے انتخاب کے متعلق کوئی قطعی فیصلہ کرے۔مکرم مولوی صاحب نے اپنی تقریہ جاری رکھتے ہوئے فرمایا :- تازہ حالات سے معلوم ہوتا ہے کہ مخالفین خلافت احمدیہ ابھی تک اپنی کوششوں میں سرگرم ہیں اور ہر رنگ میں جماعت میں تفرقہ پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔اس لیے جماعت کے ہر فرد کو چاہیے کہ وہ ہر وقت بیدار رہے۔تاکہ دشمن اپنے منصوبہ اور سازش میں کامینا نہ ہوں۔اب یکی اس بات کے ثبوت میں کہ خلافت کے مخالفت ابھی تک اپنی کوششوں میں سرگرم عمل ہیں بعض شہادتیں پیش کرتا ہوں۔مکرم جناب نویدی عبداللدخان امیر جماعت احمدیہ کراچی کی شاد کریم چو ہدری عبداللہ خان صاحب امیر جماعت احمدیہ کا چھا فرماتے ہیں: غالباً فروری یا مارچ تشار کی بات ہے کہ مولوی محمد اسمعیل صاحب غزنوی مجھ سے کراچی میں دو تین دفعہ ملنے کے لیے آئے۔اتفاق ایسا ہوا کہ میں انہیں مل نہ سکا۔اس کے بعد انہوں نے مجھے پیغام بھجوایا کہ میں آپ سے ملنا چاہتا ہوں۔مجھے کچھ وقت دیا جائے۔میں نے یہ محسوس کر کے کہ وہ دو تین دفعہ مجھ سے پہلے بھی ملنے کی کوشش کر چکے ہیں مگر میں انہیں ملا نہیں حسین اخلاق کے ماتحت مناسب سمجھا کہ انہیں خود جا کر مل لوں کیونکہ وہ میری بیوی کے رشتہ دار ہیں۔چنانچہ میں نے پیغامبر سے کہا کہ میں آج شام خود اس جگہ حاضر ہو جاؤں گا جہاں وہ ٹھہرے ہوئے ہیں۔ان کا قیام اس وقت احمد غزنوی صاحب سپیشل جج کے ہاں متھا۔شام کو میں حسب وعدہ اُن کے ہاں گیا۔دوران گفتگو میں انہوں نے حضرت۔۔۔۔۔۔۔اللہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کا ذکر شروع کر دیا۔اور مجھے کہا کہ میں نے حضور کی بیعت کرلی ہے اور کہا ئیں صحیح کہ رہا ہوں کہ میں نے بیعت کرلی ہے۔اور اس کے بیان کرنے میں میری کوئی ذاتی غرض نہیں۔دوسرے