تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 162
۱۶۲ حضرت مصلح موعود نے سب سے پہلے حاضرین سمیت لمبی دعا کرائی۔اور پھر ارشاد فرمایا : - اب میں باقی ایجنڈا شروع کرنے سے پہلے مولوی ابوالعطاء صاحب کو ہدایت دیتا ہوں کہ وہ ریزولیوشن جو میری ہدایت کے مطابق بنایا گیا ہے اور جلسہ سالانہ یا نتخاب خلافت کے سلسلہ میں میں نے اس کا ذکر کیا تھا پڑھ کر سنائیں۔اس پر مولوی ابو العطاء صاحب سیج پر تشریف لائے اور آپ نے مندرجہ ذیل تقریر کیا:- مسئلہ خلافت اسلام کا ایک اہم مسئلہ ہے اور جماعت احمدیہ نصف صدی سے پوری دصات اور یقین کے ساتھ اس پر قائم ہے۔چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کی وفات کے بعد حضرت خلیفہ اسیح اقول کا انتخاب ہوا تو جماعت نے بالاتفاق اس بات کا اظہارہ کیا کہ یہ مسئلہ جماعت کے لیے نیز اسلام کی حفاظت اور ترقی کے لیے نہایت ضروری ہے۔حضرت خلیفہ اسیح اول۔۔۔۔۔۔کی وفات کے بعد خلافت ثانیہ کا دور شروع ہوا تو اللہ تعالیٰ نے ایک بار پھر یہ امر ثابت کر دیا کہ جماعت کے انتظام اس کی ترقی اور اشاعت کے لیے خلافت کا وجود نہایت ضروری ہے پچھلے ۳۵ سال کا دور ہماری نظر کے سامنے سے گزرا ہے اور ہم نے مشاہدہ کیا ہے کہ کس طرح خلافت کے افضال اور برکات جماعت پر نازل ہوئی ہیں۔می و قیوم صرف خدا تعالیٰ کی ذات ہے۔ہر انسان جو اس دنیا میں پیدا ہوا ہے اُس نے ایک نہ ایک دن اس دنیا سے رخصت ہونا ہے۔اللہ تعالیٰ ہمارے پیارے امام کو لمبی اور صحت والی زندگی عطا فرمائے۔لیکن یہ مسئلہ جماعت کے لیے انتہائی قابل توجہ ہے تا آئندہ جماعت میں تشتت اور تفرقہ کی کوئی صورت پیدا نہ ہو۔جماعت کے احباب کو علم ہے کہ بعض فتنہ پر دانوں نے ایک گروہ بنا کر فتنہ پیدا کرنے کی کوشش کی ہے۔اور اللہ تعالے کا بڑا احسان ہے کہ اُس نے 197 ء میں حضرت خلیفتہ السیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز پر منکشف فرمایا کہ بعض لوگ جاہ طلبی کی وجہ سے جماعت کے انتظام کو توڑنے اور اس پر قبضہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔حضور نے بیماری کے باوجود نہایت ہمت اور محنت سے اس فتنہ کی سرکوبی فرمائی۔اور آپ سب لوگ اس بات کے گواہ ہیں کہ خدا تعالیٰ نے کس قدر آپ کی مدد اور نصرت فرمائی۔حضور نے واضح فرمایا ہے کہ خلیفہ خدا