تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 154
۱۵۴ تازہ رکھنے کے لیے ہمیشہ مدیوم خلافت منایا جائے۔چنانچہ حضور نے اجتماع مجلس خدام الاحمدیہ مرکز یہ کے موقع پر ارشاد فرمایا : در خلافت کی برکات کو یادرکھیں اور کسی چیز کو یاد رکھنے کے لیے پرانی قوموں کا یہ دستور ہے کہ وہ سال میں اس کے لیے خاص طور پر ایک دن مناتی ہیں۔مثلاً شیعوں کو دیکھ لودہ سال میں ایک وقعہ تعزیہ نکال لیتے ہیں تا قوم کو شہادت حسین کا واقعہ یاد رہے۔اسی طرح میں بھی خدام کو نصیحت کرتا ہوں کہ وہ سال میں ایک دن خلافت ڈے کے طور پر منایا کریں۔اس میں وہ خلافت کے قیام پر خدا تعالے کا شکر ادا کریں اور پرانی تاریخ کو دہرایا کریں۔پرانے اخبارات کا ملنا تو مشکل ہے۔لیکن الفضل نے پچھلے دنوں ساری تاریخ کو از سرنو بیان کر دیا ہے۔اس میں وہ گالیاں بھی آگئی ہیں۔جو پیغامی لوگ حضرت خلیفہ اول کو دیا کر تے تھے۔اور خلافت کی تائید میں حضرت خلیفہ المسیح اوّل نے جو دعوے کیے ہیں وہ بھی نقل کر بیٹھ گئے ہیں۔تم اس موقعہ یہ اخبارات سے یہ توالے پڑھ کر سناؤ اگر سال میں ایک دفعہ خلافت ڈے منا لیا جایا کرے تو ہر سال چھوٹی عمر کے بچوں کو پرانے واقعات یار ہو جایا کریں گے۔پھر تم یہ جلسے قیامت تک کرتے چلے جاؤ تا جماعت میں خلافت کا ادب اور اس کی اہمیت قائم رہے حضرت مسیح علیہ السلام کی خلافت ۱۹۰۰ سال سے برابر قائم ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام جو درجہ میں ان سے بڑے ہیں۔خدا کرے ان کی خلافت دس ہزار سال تک قائم رہے۔مگر یہ اسی طرح ہو سکتا ہے۔کہ تم سال میں ایک دن اس غرض کے لیے خاص طور پر منانے کی کوشش کرو۔میں مرکز کو بھی ہدایت کرتا ہوں۔کہ وہ بھی ہر سال میرت النبی کے جلسوں کی طرح خلافت ڈے منایا کرے اور ہر سال یہ بتایا کرے۔کہ جلسہ میں ان مضامین پر تقاریر کی جایں الفضل سے مضامین پڑھے کہ نو جوانوں کوبتایا جائے کہ حضرت خلیفہ امسیح اول نے خلافت احمدیہ کی تائید میں کیا کچھ فرمایا ہے اور پیغامیوں نے اس کے رہو میں کیا کچھ لکھا ہے۔اسی طرح وہ رڈیا و کشوف بیان کیے جایا کریں جو وقت سے پہلے خدا تعالیٰ نے مجھے دکھائے اور جن کو پورا کر کے خدا تعالیٰ نے