تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 140
۱۴۰ کی وجہ سے نہیں کس بات کا خوف ہے۔اگر وہ فتنہ میں ملوث ہیں تو خدا تعالیٰ ان کی کوئی پرواہ نہیں کریگا۔شروع شروع میں جب فتنہ اٹھا تو چند دنوں تک بعض دوستوں کے گھبراہٹ کے خطوط آئے اور انہوں نے لکھا کہ ایک چھوٹی سی بات کو بڑا بنا دیا گیا ہے۔اللہ رکھا کی مھبلا حیثیت ہی کیا ہے۔لیکن تھوڑے ہی دنوں کے بعد ساری جماعت اپنے ایمان اور اخلاص کی وجہ سے ان لوگوں سے نفرت کرنے لگ گئی۔اور مجھے خطوط آنے شروع ہوئے کہ آپ کے اور بھی بہت سے کارنامے ہیں۔مگر اس بڑھاپے کی عمر میں اور ضعف کی حالت میں جو یہ کارنامہ آپ نے انجام دیا ہے۔یہ اپنی شان میں دوسرے کارناموں سے بڑھ گیا ہے۔آپ نے بڑی جرات اور ہمہت کے ساتھ ان لوگوں کو ننگا کر دیا ہے جو بڑے بڑے خاندانوں سے تعلق رکھتے تھے اور سلسلہ کو نقصان پہنچانے کے در پہلے تھے اس طرح آپ نے جماعت کو تباہی کے گڑھے میں گرنے سے بچا لیا ہے۔مری میں مجھے ایک غیر احمدی کرنیل ملے۔انہوں نے کہا کہ جو الفات اء میں احمدیوں پر گزرے تھے وہ اب پھر ان پر گزرنے والے ہیں اس لیے آ ابھی سے تیاری کرلیں اور میں آپ کو یہ بھی بتا دینا چاہتا ہوں کہ ۱۹۵۳ء میں تو پولیس اور ملڈی نے آپ کی حفاظت کی تھی لیکن اب وہ آپ کی حفاظت نہیں کرے گی کیونکہ اس وقت جو واقعات پیش آئے تھے ان کی وجہ سے وہ ڈرگئی ہے۔جب وہ خاموش ہوئے تو میں نے کہا۔کہ تل صاحب مچھلی دفعہ میں نے کونسا تیر مارا تھا جو اب ماروں گا۔پچھلی دفعہ بھی خدا تعالیٰ نے ہی جماعت کی حفاظت کے سامان کیسے تھے اور اب بھی وہی اس کی حفاظت کرے گا۔جب میرا خدا زندہ ہے تو مجھے فکر کرنے کی کیا ضرورت ہے۔میری اس بات کا کرنل صاحب پر گہرا اثر ہوا۔چنا نچہ عرب میں ان کے پاس سے اٹھا اور دہلیز سے باہر نکلنے لگا تو وہ کہنے لگے فیتھ از بلائنڈ (FAT THIS BLIND) یعنی یقین اور ایمان اندھا ہوتا ہے وہ خطرات کی پرواہ نہیں کرتا جب کسی شخص میں ایمان پا یا جاتا ہو تو اسے آڑے آنے رائے مصائب کا کوئی فکر نہیں ہوتا۔جب منافقین کا فتنہ اٹھا تو انہی کہ نل صاحب نے ایک احمدی افسر کو جوان کے قریب ہی رہتے تھے بلایا اور کہا کہ میری طرت سے مرزا صاحب کو کہ دینا کہ آپ نے یہ کیا کیا ہے۔اللہ ر کھا کی پھلا حیثیت ہی کیا تھی۔اس مضمون سے اُسے بلا ضرورت شہرت مل جاے