تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 132
انتظار کرنے کی ضرورت نہیں سمجھتا۔اور مولوی عبد المنان اور میاں عبد الوہاب دونوں کو جماعت احمدیہ سے خارج کرتا ہوں۔تمام جماعتیں اس بات کو نوٹ کر لیں۔اگر وہ صحیح طور پر براہ راست مجھ سے ربری با خذ رسید معافی طلب کریں گے نہ کہ کسی پیغامی یا غیر احمد می اخبار میں مضمون چھپوا کر تو اس پر غور کیا جائے گا۔سر دست ان کو جماعت سے خارج کیا جاتا ہے۔بعض اور لوگ بھی انکے ہمنوا ہیں مگر ان کے متعلق مجھے اعلان کرنے کی ضرورت نہیں۔امور عامہ ان کے متعلق ساری باتوں پر غور کر رہا ہے۔وہ جب کسی نتیجہ پر پہنچے گا خو دا علان کر دے گا۔خاکسار مد المسعود احمد خلیفة المسیح الثانی مرا ۲۵ میاں عبد المنان صاحب حضرت مصلح موعود کے ناظر صاحب امور عامہ کا مکتوب مفتوح اس مفصل بیان کی اشاعت کے بعد بھی اپنی ہٹ دھرمی پر قائم رہا ہے اور صحیح راہ سے کھلم کھلا گریز کر کے ناظر صاحب امور عامہ کی خدمت میں ایک مراسلہ بھیجا جس کے جواب میں ناظر صاحب کی طرف سے حسب ذیل مکتوب مفتوح الفضل ر دسمبر ۱۹۵۶ء میں شائع ہوا۔بسم الله الرحمن الرحیم حمد وصال على رسوله الكريم وعلى عبده السيح الموعود میاں عبد المنان صاحب ! السلام عليكم آپ کا ایک خط حضرت خلیفہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے حضور پہنچا جس میں آپ نے کوہستان میں چھپنے والے خط کی نقل بھجوائی ہے اور یہ شکایت کی ہے کہ الفضل کو بھی میں نے یہ مضمون بھجوایا تھا۔مگر الفضل نے شائع نہیں کیا۔آپ کا یہ خط حضرت خلیفة المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے ہمارے دفتر میں جواب کے لیے بھجوایا ہے سو آپ کو تجوا با تحریر ہے کہ اس خطہ میں بھی بہت دجل سے کام لیا گیا ہے۔جیسا کہ پہلے خطوں میں لیا گیا تھا۔مثلاً اس خط کے اوپر تاریخ ۲۰ لکھی ہے۔حالانکہ یہ بالکل جھوٹ ہے۔اصل بات یہ ہے کہ آپ کے اخراج از جماعت کا جو اعلان الفضل میں چھپا تھا اس میں حضرت خلیفہ