تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 131
ان کا مقابلہ کرنا چاہیئے۔اور ڈرنا نہیں چاہیئے۔ہمارا روپیہ اور ہماری تنظیم اور ہماری سیٹھ ان کی تائید میں ہے۔مولوی عبد المنان اور مولوی عبد الوہاب نے اس مضمون کی بھی جو جماعت احمدیہ کی سخنت ہتک کرنے والا تھا کوئی تردید نہ کی اس کے بعد مولوی عبد المنان نے بجائے اس کے کہ تمام مروی ن دیدوں کے ساتھ معافی نامہ میرے پاس بھیجتے ایک بظاہر معافی نامہ لیکن در حقیقت اقرا به جرم سلسلہ احمدیہ کے شدید مخالف روز نامہ " کوہستان میں چھپوا دیا جس کا ہیڈ نگ یہ تھا کہ ر قادیانی خلافت سے دستبرداری" یہ دوسرے لفظوں میں اقرار تھا اس بات کا کہ عبد المنان صنا قادیانی خلافت کے امیدوار ہیں کیونکہ جو شخص امید دار نہیں وہ دستبردار کی طرح ہو سکتا ہے مگر بہر حال یہ مضمون جیسا بھی تھا میرے پاس نہیں بھیجا گیا۔ملکہ کو ہستان میں چھپوایا گیا۔اور ایک دفعہ نہیں دو دفعہ۔جس کا مطلب یہ تھا کہ جماعت احمدیہ کو بد نام کرنے کے لیے ایک تدبیر نکالی جا رہی ہے پس میں مولوی عبد المنان کو اس وجہ سے کہ وجہ شکوہ مجھے پیدا ہوئی تھی لیکن انہوں نے اس کے جواب میں ایک ملمع سازی کا مضمون کو ہستان میں چھپوا دیا۔جو احمدیت کا دشمن ہے اور میرے پاس صحیح طور پر کوئی معافی نامہ نہیں بھجوایا۔پس میں مولوی عبدالستان کو جو یا تو اپنا مضمون "پیغام صلح، میں چھپواتے ہیں۔جو جماعت مبالعین کا سخت دشمن اخبار ہے یا در کوہستان میں چھپواتے ہیں جو سلسلہ احمدیہ کا شدید دشمن ہے۔اور پھر چوہدری ظہور حسین چیمہ کے شدید دل زار مضمون کی تردید نہیں کرتے اور اپنی خاموشی سے اس کی اس دعوت کو منظور کرتے ہیں کہ شاباش خلافت ثانیہ کی مخالفت کرتے رہو اور ہمارا روپیہ اور ہمارا پلیٹ فارم اور ہماری تنظیم تمہارے ساتھ ہے تم خلافت محمودیہ کی مخالفت کرتے رہوا اور اس کے پردے چاک کر دو۔جماعت احمدیہ سے خارج کرتا ہوں اسی طرح مذکورہ بالا الزامات کی بناء پر میاں عبد الوہاب کو بھی۔پس آج سے وہ جماعت احمدیہ کا حصہ نہیں ہیں اور اس سے خارج ہیں۔مجھے کچھ عرصہ سے برا بہ جماعت کے خطوط موصول ہو رہے تھے کہ یہ لوگ جب جماعت سے عملاً خارج ہو رہے ہیں۔تو ان کو جماعت سے خارج کرنے کا اعلان کیوں نہیں کیا جاتا۔گر میں پہلے اس لیے کارٹا کہ شاید وہ صیح طور پر معافی مانگ لیں اور الزاموں کا ازالہ کر دیں۔مگر ان لوگوں نے نہ مجھ سے معافی مانگی نہ آن الزامات کا ازالہ کیا جو ان پر لگائے گئے تھے پس اب میں زیادہ -