تاریخ احمدیت (جلد 18)

by Other Authors

Page 93 of 846

تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 93

۹۳ ملک اور بیرون پاکستان اپنی سرگرمیاں جاری رکھ سکے گی۔چنانچہ اس نے لکھا۔ہم قادیانی جماعت کے حالات سے جتنی بھی واقفیت رکھتے ہیں۔اس کی بنا پر کہہ سکتے ہیں کہ قادربانی جماعت پوری کی پور می سازش اور نفاق کا مرکز ہے مرزا محمود المعانی گوناگوں شخصیت اور ان کی ناقابل تصویر آمریت کا آپہنی جال جب تک مضبوط تنا ہوا موجود ہے اس وقت تک یہ سازش کامیاب تو شاید نہ ہو سکے لیکن اس کا دائرہ اثر وسیع سے وسیع تر ہوتا چلا جائے گا اور مرزامحمود جب تک ذہنی اعتبار سے بالکل مفلوج اور جسمانی حیثیت سے معطل نہ ہو جائیں یادہ تقاضا ئے عمر طبعی اپنے پیش رو کے ساتھ عالم برزخ محاسب حقیقی کے روبرو پیش نہ ہو جائیں اس وقت تک یہ سازش پوری طرح دنیا کوا پنے لحاظ میں نہیں لے سکتی۔البتہ بظاہر اس امرکا کوئی امکان نظر نہیں آتا کہ ان کے جانشین خواہ مرزا ناصر ہوں یا ظفراللہ، عبدالمنان ہوں یا کوئی دوسری شخصیت قادیانی جماعت کا اس پر متحد ہونا اور منظم رہ کر جوں کا توں پاکستان میں ربوہ کی ریاست قائم رکھنا اور بیرون پاکستان اپنے کام کو وسیع کرتے چلے جانے کا سلسلہ حسب سابق باقی رہے گا الا کہ یہ قادیانیوں کی مخالفت کرنے والی بعض جماعتیں حسب سابق اسی حماقتوں اور غلط قاریوں کو نہ اپنا لیں تو قادیانیوں کو منظم ہونے پر مجبور کر دیں اسے احمدیت کی مخالف قوتوں کا اس طرح کا ایک ہفت روزہ لاہور کا حقیقت افروز اداری ساختیں کی پشت پناہی میں جمع ہو جاتا بے مقصد نہیں تھا بلکہ اس سے مجھے وہی خطرناک عوامل کار فرما تھے نبوت وارد میں ملک میں مفادات کے شعلے بلند کرنے کا موجب دھرک بنے تھے۔چنانچہ ہفت روزہ لاہور نے ۳ ستمبر ۱۹۵۶ء کی اشاعت میں لکھا۔گزشتہ چند ہفتوں سے خلافتِ احمدیہ سے متعلق جماعت کے دو حصوں کے جرائد الفضل اور پیغام مصلح میں ایک خالصتہ واخلی نوعیت کی بحث چل رہی تھی۔جس میں دخل اندازی ہم نے لاہور کی بنیا دی پالیسی را ہفت روزه " المنير الالپور ۳ ستمبر ۱۹۵۶ء ص۳