تاریخ احمدیت (جلد 17) — Page 531
۵۳۱ " ود دور " کی خوبصورت مسجد کے تمام اخراجات احمدی مستورات نے یہ داشت کئے تھے۔انہوں نے اس کی تعمیر کے لئے خود رقوم بطور چندہ ادا کیں ہے۔(۴) - اخبار" بی۔ٹی “ نے اپنے ۱۳ اگست ۱۹۴۷ء کے شمارہ میں لکھا بر اس مقفتنہ اپنے سر براہ اعلیٰ کی ایک جھلک دیکھنے کے لئے جماعت احمدیہ نامی اسلامی فرقے کے پچیس تیس ہزار افراد ودوور میں واقع اپنی مسجد کی طرف کھنچے پہلے آئے۔یہ سربراہ اہلی مسیح موعود کے چوتھے خلیفہ ہیں۔آپ گذشتہ منگل سے مسجد کے پہلو میں پہلی اینٹوں سے تعمیر شدہ مکان میں مسجد کے امام صاحب کے ساتھ ٹھہرے ہوئے ہیں۔امام مسجد نصرت جہاں کوپن ہیگن میں مقیم احمدی مسلمانوں کے امیر میں۔خلیفہ المسیح سے روز روز ملاقات کا موقع نہیں ملا کرتا۔خاص طور پر ایک ایسے شخص کو جو جماعت کا رکن نہ ہو یا بے دلی سے جماعت میں آشامل ہوا ہو لیکن گذشتہ شام تمہیں پندرہ منٹ کی ملاقات کا موقع ملا۔اعلیٰ صلاحیتوں کی مالک اس پرکشش شخصیت کے ساتھ جسے قدرت نے مزاح کی جس سے بھی حصہ وافر عطا کیا ہے۔ہماری ملاقات طول پکڑتی گئی اور پندرہ منٹ کی بجائے ۴۵ منٹ تک جاری رہی۔فی الاصل تو یہ ملاقات مشن کے تہ خانہ میں ملاقات کے لئے مخصوص کمرے میں ہونا تھی اور بہت سے مقامی مسلمانوں نے خلیفہ مسیح کے ارشادات کو ریکارڈ کرنے کے لئے متعدد ٹیپ ریکارڈرز بھی وہاں لا جمع کئے تھے۔لیکن خلیفہ اسیح نے اپنے قافلہ کے ۱۳ ممبران میں سے چند ممبران کی ہمراہی میں ایک لان رگھاس کے ایک قطعہ میں ) ملاقات کرنا پسند فرمایا۔حضرت مرزا طاہر احمد کی عمر ۵۳ سال ہے۔دو ماہ قبل بطور خلیفہ المسیح آپ کا انتخاب عمل میں آیا ہے۔اس منصب پر آپ اپنی وفات تک فائز رہیں گے۔آپ بانی سلسلہ احمدیہ کے پوتے ہیں۔ایک کروڑ مسلمانوں کے سربراہ اعلیٰ کی حیثیت میں خلیفہ منتخب ہونے کے بعد یہ آپ کا پہلا غیر ملکی دورہ ہے۔روزنامه الفضل ۳۰ دسمبر له صلا ۲ - سه اصل تعداد چند ہزار ہوگی (ناقل )