تاریخ احمدیت (جلد 17) — Page 506
۵۰۶ باجوہ (امام مسجد محمود زیورک سوئٹزر لینڈ) - مکرم سید مسعود احمد صاحب ( امام مسجد نصرت جہا کوین بگین ڈنمارک) کمریم کمال یوسف صاحب (امام مسجد ناقر گوٹن برگ۔سویڈن ، کریم کرم اللی اما خفر ( مبلغ سپین ) - مکرم منیر الدین احمد صاحب (مبلغ سویڈن ) - تکریم سمیع اللہ صاحب زاہد (مبلغ سویڈن مکرم نور احمد بوستاد صاحب ( آنریری مبلغ ناروے مکروم عبدالسلام صاحب میڈیسن در آنریری مبلغ ڈنمارک) مکرم منیر الدین شمس صاحب ( مبلغ انگلستان - مکرم مولوی محمد اسمعیل منیر صاحب (سابق مبلغ سیرالیون) سکنڈے نیوین ممالک اور مغربی جرمنی کے نو مسلم احمدی احباب و خواتین بھی بڑی تعداد میں آئے ہوئے تھے۔سویڈن کے مقامی احباب و خواتین اس کے علاوہ تھیں۔مسجد کے احاطہ کو خو بصو ر قطعات سے سجایا گیا تھا۔اس سلسلہ میں سویڈن کے مبغلین کرام کے علاوہ سویڈن اور اوسلو کے احباب نے بھی محنت سے کام کیا۔بالخصوص یوگو سلاوین احمدی بھائی کرم شعیب موسیٰ صاحب اس خدمت میں پیش پیش تھے۔ساڑھے دس بجے صبح حضور نے مشن ہاؤس میں ایک پر ہجوم پریس کا نفرنس سے خطاب فرمایا اور موثر انداز میں صحافیوں کے سوالات کے جوابات دیئے۔پریس کانفرنس کے دوران اور اس کے بعد بھی یورپ کے مختلف ممالک سے احباب کی آمد کا سلسلہ برابر جاری رہا۔پریس کانفرنس ختم ہوتے ہی نمازہ جمعہ کی تیاری شروع ہوئی۔گوٹن برگ کے سب سے پہلے یوگو سلاوین احمدی مکرم شعیب موسی صاحب نے حضور کے ارشاد پر اذان دی جس کے بعد حضور نے انگریزی زبان میں خطبه جمعه ارشاد فرمایا۔حضور نے سورۃ توبہ کی مندرجہ ذیل آیت نمبر ۱۰۹ تلاوت فرمائی آ فَمَنْ اَسسَ بَنْيَانَهُ عَلَى تَقْوَى مِنَ اللهِ وَرِضْوَانٍ خَيْرُ أَمْ مَنْ أَسَّسَ بَنْيَانَهُ عَلَى شَفَا حُرُفٍ هَادٍ فَانْهَارَ بِهِ فِي نَارِ جَهَنَّمَ وَ اللهُ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الظَّلِمِينَ۔ترجمہ یہ کیا وہ شخص جو اپنی عمارت کی بنیاد اللہ کے تقولی اور رضامندی پر رکھتا ہے۔زیادہ اچھا ہے یا وہ جو اس کی بنیاد ایک پھیلنے والے کنارے پہ رکھتا ہے ہو گر رہا ہوتا ہے پھر وہ کنارہ اس عمارت سمیت جہنم کی آگ میں گیا جاتا ہے اور اللہ ظالم قوم کو کامیابی کا راستہ نہیں دکھاتا۔اس آیت کی روشنی میں حضور نے مسجد کے کسٹوڈینیٹرز کی یہ ذشتہ داریاں بیان کی۔اول یہ کہ