تاریخ احمدیت (جلد 17) — Page 477
اس میں حصہ لے رہے ہیں۔گو امریکہ کے مبلغ اس معاملہ میں بہت سستی سے کام لے رہے ہیں میں نے سمجھا کہ چونکہ یہ خدا تعالیٰ کا قائم کردہ نظام ہے۔اگر اس نظام کو بیرونی ملکوں میں بھی جاری کر دیا جائے تو وہاں کے مبلغوں کے لئے اور مشنوں کے لئے اور مسجدوں کی تعمیر کے لئے بہت بڑی سہولت پیدا ہو جائے گی غرض یہ کہ خدا تعالیٰ کا ایک بہت بڑا نشان ہے جو اس نے اپنے زندہ ہونے کے ثبوت کے طور پر تمہارے سامنے ظاہر کیا ہے۔اب تمہارا کام ہے کہ تم ان نشانات سے فائدہ اٹھاؤ اور خدا تعالیٰ کے دامن کو ایسی مضبوطی سے پکڑ لو کہ وہ تم سے کبھی جدا نہ ہو تمہیں اگر ایک چھوٹی سی چھوٹی چیز بھی مل جائے تو تم اسے ضائع کرنا کبھی پسند نہیں کرتے۔اگر تمہیں دو آنے مل جائیں تو تم ان دو آنوں کا ضائع ہونا بھی برداشت نہیں کر سکتے، اگر تمہیں کہیں سے ایک روپیہ ل جائے تو تم اس ایک روپیہ کا ضیاع بھی برداشت نہیں کہ سکتے، اگر تمہارے پاس ایک رئیل اور مریل گھوڑا ہو تو تم اس مریل گھوڑے کو بھی ضائع کرنا بھی پسند نہیں کرتے پھر یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ تمہارے پاس ایک زندہ خدا ہو اور تم اس سے غافل ہو جب تم اس کا ہاتھ پکڑ لو گے تو وہ تمہیں کبھی بھی نہیں چھوڑے گا۔بلکہ ہر موقع پر تمہاری غیر معمولی نشانات سے تائید فرمائے گا۔اگر تمہارے جاہل باپ دادا نے یہ ضرب المثل بنائی ہوئی تھی کہ " ہتھ پھڑے دی لاج رکھنا اور وہ جس کا ہاتھ پکڑ لیتے تھے اسے کبھی نہیں چھوڑتے تھے تو کیا تم سمجھتے ہو کہ اگر تم نے مضبوطی کے ساتھ اپنے خدا کے دامن کو پکڑ لیا تو وہ تمہاری لاج نہیں رکھے گا، وہ ایسی لاج رکھے گا کہ دنیا میں کسی نے ایسی لاج نہیں رکھی ہو گی اور وہ تمہارا اس طرح ساتھ دے گا کہ تمہارے ماں باپ نے بھی تمہارا اس طرح کبھی ساتھ نہیں دیا ہو گا ئے مسلمانوں حکومت فرانسکے ظلم و تشہد کے خلاف احتجاج حرارت فرانس یک مورے حکومت عرصہ الجزائر کے حریت پسند سلمانوں پر بے پناہ مظالم توڑ رہی تھی، یہ سلسلہ اس سال کے وسط میں اپنی انتہا کو پہنچ گیا۔جب کہ فرانسیسی فوج نے الجزائر شہر کے پرانے عرب محلوں سے کم وبیش دو ہزار عربوں کو گرفتار کر کے اُن پر مظالم که روزنامه الفضل ربوه ۱۰ جولائی ۹۵۶ ہر صفحہ ۷۶