تاریخ احمدیت (جلد 17) — Page 476
۴۷۶ یہ حالت تھی کہ پندرہ سو روپیہ ماہوار کا خرچ ساری جماعت کے لئے بوجھ سمجھا جاتا تھا کہ حضرت مین موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس کے لئے خاص طور پر علیحدگی میں دعا کرنا ضروری سمجھا اور کیا یہ حالت کہ اسی شخص کا بیٹا سینکڑوں روپیہ ماہوار اپنے کارکنوں کو تنخواہیں دیتا ہے اور انجمن کے افسروں کو لا کر وہ رقم ہزاروں روپیہ کی بن جاتی ہے۔اور ربوہ کے دفتروں کو ملکہ کوئی نوے ہزار ماہوار کی رقم بن جاتی ہے۔یہ کتنا عظیم انسان فرق ہے جو ہر شخص کو دکھائی دے سکتا ہے لیے خطبہ کے آخر میں حضور نے یہ پیشگوئی فرمائی : " مگر ابھی کیا ہے۔ابھی تو صرف ہزاروں روپیہ خرچ ہو رہا ہے پھر کوئی وقت ایسا آئے گا کہ صدر انجمن احمدیہ اور تحریک جدید کا تین تین ارب کا بجٹ ہو گا پھر الیسا زمانہ آئے گا کہ ان کا تین تین کھرب کا سیٹ ہوگا یعنی صدر انجمن احمدیہ اور تحریک جدید کا سالانہ بجٹ ۷۲ کھرب کا ہو گا۔پھر یہ بجٹ پرم پر جا پہنچے گا کیونکہ دنیا کی ساری دولت احمدیت کے قدموں میں جمع ہو جائے گی۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے صاف طور پر لکھا ہے کہ مجھے یہ فکر نہیں کہ روپیہ کہاں سے آئے گا مجھے یہ فکر ہے کہ اس روپیہ کو دیانت داری کے ساتھ خرچ کرنے والے کہاں سے آئیں گے۔چنانچہ دیکھ لو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے وصیت کا نظام جاری فرمایا تو اللہ تعالے نے اس میں ایسی برکت دکھ دی کہ یا وجود اس کے کہ انجمن کے کام ایسے ہیں جو دلوں میں جوش پیدا کرنے والے نہیں پھر بھی صدر انجمن احمدیہ کا بجٹ تحریک جدید کے بجٹ سے ہمیشہ بڑھا رہتا ہے کیونکہ وصیت اُن کے پاس ہے۔اس سال کا بجٹ بھی تحریک جدید کے بجٹ سے دو تین لاکھ روپیہ زیادہ ہے۔حالانکہ تحریک کے پاس اتنی بڑی جائیداد ہے کہ اگر وہ جرمنی میں ہوتی یا یورپ کے کسی اور ملک میں ہوتی تو ڈیڑھ ڈیڑھ دو دو کروڑ روپیہ سالانہ اُن کی آمد ہوتی۔مگر اتنی بڑی جائیداد اور بیرونی ممالک میں تبلیغ اسلام کرنے کی جوش دلانے والی صورت کے باوجود محض وصیت کے طفیل صدر انجمن احمدیہ کا بجٹ تحریک جدید سے بڑھا رہتا ہے۔اسی لئے آب وصیت کا نظام نہیں نے امریکہ اور انڈونیشیا میں بھی جاری کر دیا ہے اور وہاں سے اطلاعات آرہی ہیں کہ لوگ بڑے شوق سے لے روزنامہ الفضل ریوه ۱۰ جولائی ۱۹۵۷ ء صفحه ۶۰۵۔