تاریخ احمدیت (جلد 17) — Page 456
۴۵۷ ( حضرت مصلح موعود کا جواب ) ایک صاحب کا خط مجھے نور ہسپتال کے نام کے متعلق ملا ہے۔زمیں اس کا نام ظاہر نہیں کرنا چاہتا لیکن خط بھیجوا رہا ہوں ، کہ اس کو بغیر نام کے شائع کر دیا جائے ) اس مضمون کا خط مجھے ربوہ میں بھی ملا تھا جس سے معلوم ہوتا ہے کہ کئی لوگوں کے دلوں میں شبہ ایک ہی وقت میں پیدا ہوا ہے سو یا د رہے کہ نور ہسپتال قادیان میں تھا۔اس کا نام نہیں بدلا گیا۔بلکہ وہ قادیان میں موجود ہے۔اس کو قادیان سے اُٹھا کر لانے کی ہمیں توفیق نہیں۔جب بھی خدا تعالے ہمیں قادیان دلائے گا۔نور ہسپتال نور ہسپتال ہی رہے گا۔فضل عمر ہسپتال ایک نئی عمارت ہے جو نئے لوگوں کے چندوں سے بنی ہے۔ہر چندہ دینے والی جماعت یا منتظم جماعت کا حق ہوتا ہے کہ وہ جو چاہے اپنی عمارت کا نام رکھ دے۔اگر اس قانون کو تسلیم کر لیا جائے کہ جو عمارت کسی بزرگ کے نام سے موسوم کی جائے تو جہاں کہیں بھی اس فن کی نئی عمارت بنائی جائے وہی نام اس کو دینا چاہیے تو اس کے یہ معنی ہوں گے کہ آئندہ جماعت احمدیہ جہاں کہیں ہسپتال بنائے اس کا نام نور ہسپتال رکھے۔کیا کوئی معقول آدمی ایک منٹ کے لئے اس خیال کی صحت کو تسلیم کر سکتا ہے ، جب مختلف ممالک میں جماعتیں ہسپتال بنائیں گی تو کیسی جگہ پر وہ اس ملک کے کسی وزیر کے نام پر اس ہسپتال کا نام رکھیں گی کسی جگہ کسی بڑے مبلغ کے نام پر اس کا نام رکھیں گی۔غرض ہر ملک اور ہر علاقہ میں نئے نئے ناموں پر ہسپتال بنتے جائیں گے۔ربوہ میں جو ہسپتال بنا ہے۔ان لوگوں نے جنہوں نے وہ ہسپتال بنایا ہے مجھے سے خواہش کی کہ اس کا نام فضل عمر مہینتان رکھ دیں اور میں نے اجازت دے دی۔کیا یہ ہسپتال قادیان سے اٹھا کر لایا گیا ہے۔کہ یہ خیال کیا گیا ہے کہ حضرت خلیفہ اول کا نام اس سے الگ کر دیا گیا ہے۔حضرت خلیفہ اول کی زندگی میں تو اس ہسپتال کی ایک اینٹ بھی نہیں رکھی گئی تھی۔اگہ اس خیال کو وسیع کیا جائے تو جس طرح قادیان میں عربا کے لئے جو مختلف مکان بنائے گئے تھے۔اس جگہ کا نام ناصر آباد رکھا گیا تھا کیونکہ میر ناصر نواب صاحب نے وہ مکان چندہ کر کے بنوائے تھے ، اب ربوہ میں محلہ الف میں فریا کے لئے مکان بنائے گئے ہیں تو یہ اعتراض بھی ہونا چاہئے کہ اس کا نام محلہ دارالیمین کیوں رکھا گیا۔پھر جماعت کو قانون بنا دینا چاہئیے کہ جہاں جہاں بھی کوئی مبہسپتال بنایا جائے۔اس کا نام