تاریخ احمدیت (جلد 17)

by Other Authors

Page 451 of 578

تاریخ احمدیت (جلد 17) — Page 451

ام شامل نہیں ہوتا تو اس کی غیر حاضری کی وجہ سے سلسلہ کو تو کوئی نقصان نہیں پہنچے گا لیکن وہ خود الہی انعامات سے محروم ہو جائے گا۔جب شورتی نہیں تھی تب بھی کام چلتا تھا۔اور اب شورٹی جلائی جاتی ہے۔تب بھی کام چل رہا ہے۔پس تم حقیہ لویا نہ لو سلسلہ کا کام چلتا رہے گا۔ہاں اگر تم اس وقت جماعتی کاموں میں حقہ نہیں لیتے اور انہیں اپنے لئے موجب عزت خیال نہیں کرتے تو تمہاری اولادیں آئندہ انعامات سے محروم ہو جائیں گی۔لوگ اپنی زندگیوں میں اپنی اولادوں کے لئے ہزاروں ہزار روپیہ کی جائیدادیں بنا جاتے ہیں تا اُن کے کام آئیں تم بھی اگر سلسلہ کے کاموں میں حصہ لیتے رہوگے تو تمہارا ایسا کہ نا تمہاری اولاد کے لئے ایک بڑی بھاری جائیداد ثابت ہوگا۔یا درکھو۔اگر تم میں سے کسی کو سلسلہ کے کسی کام کے لئے مقرر کیا جائے تو اس کا اس سے بھاگتا سخت غلطی ہے۔تم سلسلہ کے کام کی سرانجام دہی میں ہر گنہ کو تا ہی نہ کرو بلکہ اسے اپنی عزت کا موجب سمجھو۔اگر تم سلسلہ کے کاموں کو عزت والا قرار دو گے تو خدا تعالیٰ بھی تمہیں عزت والا بنا دے گا۔گو اس وقت جماعت کے پاس دولت نہیں ، اسے دنیا میں کوئی اہمیت حاصل نہیں لیکن تھوڑے عرصہ میں ہی احمدیت دُنیا پر غالب آنے والی ہے اور اس کے آثار خدا تعالیٰ کے فضل سے نظر آرہے ہیں۔بڑے بڑے لوگوں کی توجہ احمدیت کی طرف ہو رہی ہے۔یہ بڑے بڑے لوگ جس علاقہ سے بھی آئیں گے وہ احمدیت کو زیادہ معزہ سمجھیں گے اور احمدیت کی وجہ سے انہیں اور عزت حاصل ہوگی لیکن جو لوگ سلسلہ کے کاموں میں شریک ہونے کو ذلت اور وقت کا ضیاں سمجھیں گے اُن کے علاقہ میں عزت دیر سے آئے گی اور اگر وہ عزت آگئی تو جن لوگوں نے اپنے وقت میں سلسلہ کی خدمت میں کوتا ہی کی ہوگی ان کی اولادیں اس عزت سے محروم کر دی جائیں گی۔پس آئندہ کے لئے احتیاط کرو اور ہمیشہ سلسلہ کے کاموں کو عزت کی نگاہ سے دیکھو تم میں سے کسی کو سلسلہ کے کسی کام کے لئے مقرر کیا جائے تو وہ سمجھے کہ خدا تعالیٰ نے اُسے بہت بڑے خطاب سے نوازا ہے۔۔ے رپورٹ مجلس مشاورت ۱۹۵۶ء صفحه ۲۴، ۲۵ -