تاریخ احمدیت (جلد 17)

by Other Authors

Page 449 of 578

تاریخ احمدیت (جلد 17) — Page 449

و امام دنیا کی فتح میں کوئی شبہ باقی نہیں رہتا۔میں تو بیمار ہوں اور مجھے بعض دفعہ اپنی زندگی کا ایک ایک دن دو بر معلوم ہوتا ہے لیکن مجھے یہ بات نظر آر ہی ہے۔اور ہم میں سے جو لوگی زندہ رہیں گے وہ دیکھیں گے کہ چند سالوں کے اندر اندر دنیا میں ایک عظیم انسان تغیر پیدا ہوگا اور احمدیت ایک نمایاں حیثیت اختیار کرلے گی۔بلکہ اب بھی احمدیت نے اتنی اہمیت حاصل کر لی ہے کہ امریکہ کے ایک رسالہ نے جس کی اشاعت دو کروڑ کے قریب ہے ، ایک نہ سر دست مضمون لکھا ہے کہ مشرقی افریقہ میں احمدیوں نے اسلام کی اس طرح تبلیغ کی ہے کہ اس کے مقابلہ میں عیسائیت شکست کھا کہ رہ گئی ہے۔اور انگلستان کے ایک اور مشہور شخص نے بھی لکھا ہے کہ مشرقی افریقہ میں اب عیسائیت کی اشاعت کے لئے کوئی موقع نہیں رہا اور احمدیوں نے اس کے لئے کوئی جگہ نہیں چھوڑی۔به احمدیت کی صداقت کا ایک بڑا نشان ہے۔(۳)۔"جس قدر عشق قرآن کریم سے حضرت خلیفہ اول کو تھا۔اس کو مد نظر رکھتے ہوئے یہ کوئی بعید امر نہیں تھا کہ تراجم قرآن کریم کا کام انہی کے زمانہ میں شروع ہو جانا۔لیکن چونکہ یہ جانت خدا تعالیٰ نے میرے لئے مقرر کر رکھی تھی۔اس لئے اس زمانہ میں یہ کام شروع نہ ہوا تا قرآن کریم کے انوار کا ظہور میرے زمانہ خلافت میں ہو اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کا یہ الہام پور ہوا کہ " نور آتا ہے نور اس الہام کا ایک معصوم یہ بھی تھا کہ میرے زمانہ خلافت میں قرآن کریم کی اشاعت ہوگی اور اس کے تراجم مختلف زبانوں میں کئے جائیں گے کیونکہ قرآن کریم کا ایک نام نور“ بھی رکھا گیا ہے۔حقیقت یہی ہے کہ اب تک جو کام ہوا ہے ، اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہوا ہے۔اور اُسی نے مختلف زبا نہیں جاننے والے آدمی ہمیں مہیا کئے دیر نہ ہمارے پاس مختلف زبا نہیں جاننے والے لوگ موجود نہیں تھے۔۔۔۔۔۔پس یہ برکتیں اللہ تعالیٰ نے صرف ہمارے لئے رکھی تھیں۔در حقیقت ان تراجم کا کام کسی فرد کا کام نہیں تھا۔بلکہ خلافت تنظیم اور تجھے کا کام تھا ورنہ جماعت میں سے کون ہے جو ان تراجم میں سے ایک ترجمہ بھی شائع کروا سکتا۔لیکن ہم سب نے مل کر وہ کام کر لیا چوڑے نے رپورٹ مجلس مشاورت ۱۹۵۶ / ۱۳۳۹ صفحه ۱۷