تاریخ احمدیت (جلد 17) — Page 415
۱۵م فصل پنجمیم ۲۳ مارچ ۱۹۵۷ء کا دن اء کا دن پاکستان کی تاریخ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے قیام پر میں کبھی فراموش نہیں کیا جاسکتا کیونکہ اس روز جماعت احمدیہ پاکستان کا میشن مسترت اسلامی جمہوریہ پاکستان کا وجود عمل میں آیا اور نئے دستور کے تحت میجر جنرل سکندر مرزا نے پہلے صدر جمہوریہ کی حیثیت سے حلف اُٹھا کر اپنے مہارے کا چارج سنبھالا۔اس تقریب پر پورے ملک میں خوشی دسترت کی لہر دوڑ گئی تھی۔اور جماعت احمدیہ پاکستان نے بھی جوش و خروش کے ساتھ جشن مسرت منایا۔اس روز ربوہ میں جماعت کے مرکزی دفاتر پر پاکستانی پرچم لہرائے گئے متعد دکھیلوں، ضیافتوں اور جلسہ عام کے انعقاد کے علاوہ استحکام پاکستان کے لئے دعائیں کی گئیں۔غرباء کو کھانا کھلایا گیا۔بچوں میں مٹھائی تقسیم کی گئی اور رات کو چراغاں کیا گیا۔ربوہ میں رات گئے تک خوب چہل پہل اور رونق یہ ہیں۔ظاہر صاحب امور خارجہ نے جماعت احمدیہ کی طرف سے صدر مملکت میجر جنرل سکندر مرزا بعزت مآب وزیر اعظم جناب چو دھری محمد علی صاحب۔وزیر داخلہ جناب عبد الستاره صاحب گورنر معرفی پاکستان جناب مشتاق احمد صاحب گورمانی اور وزیر اعلیٰ پنجاب ڈاکٹر خانصاحب کی خدمت میں مبارک باد کے برقی پیغام ارسال کئے۔جماعت احمد یہ انگلستان کی طرف سے بھی صدر مملکت اور وزیر اعظم کے نام مبارکباد کے تار ارسال کئے گئے ہے یہ دن ملک اور جماعت احمدیہ پاکستان کے لئے دوسری خوشی کا دن تھا، کیونکہ اس دن جمعہ کا مبارک دن تھا۔حضرت مصلح موعودؓ نے اس دن کی خصوصیت کے پیش نظر اپنے یاد گار خطبہ جمعہ ميں خاص طور پر دستور پاکستان کے نفاذ پر دلی مسرت کا اظہار کیا اور اہل پاکستان اور ن روزنامه الفضل ۲۵، ۲۶ مارچ ۱۹۵۶ م ص -