تاریخ احمدیت (جلد 17)

by Other Authors

Page 393 of 578

تاریخ احمدیت (جلد 17) — Page 393

۳۹۳ H ہے جھوٹ بولو سر مذہب میں کہتا ہے کہ سچ بولو اور یہی قرآن کریم نے کہا ہے پھر اس نے کہا بہاء اللہ نے کہا ہے کہ عورتوں کے لئے تعلیم ضروری ہے۔میں نے کہا یہ تعلیم بھی قرآن کریم میں موجود ہے مثلاً قرآن کریم کہتا ہے کہ عوز میں بھی جنت میں جائیں گی اور جنت میں وہ اس وقت جاسکتی ہیں جب وہ نمازیں پڑھیں گی، روزے رکھیں گی، زکواۃ دیں گی ، حج کریں گی اور یہ کام بغیر تعلیم کے کیسے ہو سکتے ہیں۔اگر انہیں یہ پتہ ہی نہیں ہو گا کہ قرآن کریم کیا کہتا ہے۔عبادات کیا ہیں۔اخلاق فاضلہ کیا ہیں تو وہ جنت میں کیسے جائیں گی۔اور یہ تمام باتیں تعلیم کے ساتھ وابستہ ہیں۔اس پر اس عورت نے کہا دیکھنے بہائیت کہتی ہے کہ ایک سے زیادہ بیویاں نہیں کرنی چاہئیں لیکن قرآن کریم تعد ان دوات کی تعلیم دیتا ہے تو بہت بڑا ظلم ہے۔نہیں نے کہا کہ یہ بحث کہ ایک بیوی پر کفایت کرنا بہت ہے یاضرورت کے وقت ایک سے زیادہ بیویاں کرنا مناسب ہے بہت لمبی ہے۔میں صرف یہ پوچھنا چاہتا ہوں کہ اگر ایک سے زیادہ شادیاں کرنا ظلم ہے تو خود بہاء اللہ نے ایک سے زائد بیویاں کیوں رکھیں۔اس عورت نے کہا کہ قرآن کریم تو چار بیویوں کی اجازت دیتا ہے۔میں نے کہا اصل اعتراض ایک سے زائد بیویاں کرنے پر ہے۔تین یا چار بیویاں کرنے پر نہیں۔اگر اصل اعتراض ایک سے زائد بیویاں کرنے پر ہے تو جس طرح یہ اعتراض چار بیویوں پر وارد ہوتا ہے اسی طرح دو اور تین پر بھی وارد ہوتا ہے۔اس پر اس انگریز عورت نے ایرانی عورت سے دریافت کیا کہ بہاء اللہ کی کتب میں اس کے متعلق کیا لکھا ہے ؟ پہلے تو اس نے حقیقت بیان کرنے سے گریز کیا لیکن بعد میں اصرار کرنے پر بتایا کہ یہ درست ہے کہ بہاء اللہ کی ایک سے زائد بیویاں تھیں مگر ساتھ ہی کہنے لگی کہ بہاء اللہ نے کہا تھا کہ میری تعلیم کی تشریح عباس کرے گا وہی درست ہوگی۔اور عباس نے یہی کہا ہے کہ مرد ایک سے زائد بیویاں نہ کرے۔میں نے کہا جب بہاء اللہ نے عملی طور پر تعدد ازدواج کو تسلیم کیا ہے۔اور اس نے خود ایک سے زیادہ بیویاں کی ہیں تو آب کون شخص یہ بات مان سکتا ہے کہ بہائیت کی تعلیم یہ ہے کہ مرد ایک سے زیادہ بیویاں نہ کرے آخر وہ کہنے لگی اصل بات یہ ہے کہ اس نے دوسری شادی دعوئی سے پہلے کی تھی۔دھوئی کے بعد اس نے کوئی شادی نہیں کی۔میں نے کہا بہائیوں کا یہ عقیدہ ہے کہ امام کو بچپن سے ہی غیب کا علم حاصل ہوتا ہے اس عقیدہ کے ماتحت جب بہاء اللہ کو بچپن ہی سے پتہ تھا کہ تعدد ازدوا نا جائز ہو جائے گا تو اس نے ایک سے زائد بیویاں کیوں کہیں۔اس پر وہ پھر گھبرا گئی اور مختلف بہانے