تاریخ احمدیت (جلد 17) — Page 379
۳۷۹ در جنوری ۱۹۵۶ء کو جامعتہ المبیشترین کی مصلح موعود کا جامعہ المیترین میں طرف سے مجاہد بلاد عربیہ مولانا محمد شریف صا حضر حضرت پر معارف خطاب اور کے اعزاز میں ایک استقبالیہ تقریب منعقد ہوئی۔** اس با برکت تقریب میں چودھری محمد ظفر اللہ خانصاحب اور بعض دیگر بزرگان سلسلہ کے علاوہ سیدنا حضرت المصلح الموعود رضی اللہ عنہ نے بھی شرکت فرمائی۔اور نہایت پر معارف خطاب سے نوازا اور دوران خطاب مولانا محمد شریف صاحب کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ : انہوں نے اپنے وطن گھر بار اور عزیز و اقارب سے یہ طویل جدائی خدمت دین کیلئے برداشت کی جو حالات اُن کو پیش آئے ہیں اُن میں سے گزرنے کے لئے ہر ایک کو تیار رہنا چاہئیے۔کیونکہ ان چیزوں سے جدائی اختیار کئے بغیر دنیا میں دین کی اشاعت نہیں ہوسکتی۔اس موقع پر حضور نے اپنا ایک رڈیا بیان کرتے ہوئے بتا یا کہ جو قوم دنیا میں باہر نکلنے اور نو آبادیاں قائم کرنے کا شدید اشتیاق رکھتی ہیں وہ کبھی تباہ نہیں ہوتی۔حضور نے فرمایا کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ جب تک ہم میں یہ سپرٹ قائم رہے گی کہ ہم قدمت دین کی اپنے وطنوں کو خیر باد کہتے میں رضا با نفضا کا نمونہ دکھائیں اور تبلیغ اسلام کا فریضہ ادا کر کے دنیا میں رومانی نو آبادیاں قائم کرتے پچھلے جائیں اس وقت تک خدا کی تائید و نصرت اور اس کی حفاظت ہمارے شامل حال رہے گی اور ہم دنیا میں ترقی کرتے چلے جائیں گے۔حضور نے خطاب جاری رکھتے ہوئے فرمایا دنیا میں جتنی بھی فاتح قو میں گزری ہیں انہوں نے پہلے اپنے وطنوں کو چھوڑا اس کے بعد ہی انہیں فتوحات نصیب ہوئیں۔عربوں نے اپنے وطن کو چھوڑا ، ترکوں نے چھوڑا۔یہودیوں نے چھوڑا۔آرین نسل کے لوگوں نے چھوڑا اور وہ دور دور ملکوں میں پھیل گئے۔اگر وہ اپنے وطنوں کو نہ چھوڑتے تو انہیں فتوحات نصیب نہ ہوئیں اور وہ نئے نئے ملکوں کے وارث نہ بنتے۔پس اگر ہمیں بھی خدا کے دین کی اشاعت کے لئے اپنے وطن چھوڑ نے پڑیں تو اس میں کوئی بڑی بات نہیں۔اس موقع پر حضور نے جامعتہ المبشرین کے طلبہ کو خصوصیت سے مخاطب کرتے ہوئے فرمایا ایک ہجرت قومی ہوتی ہے اور ایک ہجرت فردی ہوتی ہے۔حکیم فضل الرحمن صاحب مرحوم مولوی محمد شریف شاب