تاریخ احمدیت (جلد 17)

by Other Authors

Page 370 of 578

تاریخ احمدیت (جلد 17) — Page 370

٣٧٠ وَالسَّلامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتُهُ اخوكم - محمد لطفی عامر عثمان شارع محى الدين الخياط۔بناية ابراهيم عينانى الملا - بيروت لبنان۔ترجمه در بخدمت برادر محترم جناب ناصر احمد صاحب امام جماعت احمدیہ اسلامیہ ربوہ پاکستان میں آپ کی خدمت میں السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ کا اسلامی تحفہ پیش کرتا ہوں، بعد ازاں گذارش ہے کہ مجھے مغربی افریقہ کے ملک لائبیریا جانے کا موقع ملا۔یہاں قیام کے دوران جماعت احمدیہ کے احباب سے ملنے کا اتفاق ہوا۔پھر بار بار اُن سے ملاقات ہوتی رہی۔اس طرح مجھے اسلام کے ساتھ اُن کی وابستگی اور تعلق کی پختگی کا علم ہوا اور بحیثیت جماعت اسلام کی تعلیم پر اُن کے عمل کا اندازہ ہوا۔اس بات نے میرے دل میں ہمارے اس موقف کے بارہ میں امن و اطمینان پیدا کر دیا کہ اللہ تعالیٰ ہر زمانے اور ہر ملک میں اپنے دین کا خود محافظ ہے۔اور ایسا کیوں نہ ہوتا جبکہ وہ خود قرآن کریم میں فرماتا ہے۔اِنا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَإِنَّا لَهُ لَحَافِظُونَ۔اس بات کے سمجھ لینے کے بعد احد یہ مشن کے انچارج برادرم رشید الدین صاحب نے مجھے جماعت کی بعض کتب اور لٹریچر دیا۔جنہیں میں نے بار بار پڑھا جب بھی میں کسی کتاب کے مطالعہ سے فارغ ہوتا تو دوبارہ اور سہ بارہ اُسے پڑھنا حتی کہ میں اُس کے مطالعہ سے خوب سیر ہو جاتا۔یہ کتب ورسائل اُسی چشمہ صافی سے صادر ہوئے ہیں جو دل میں ٹھنڈک و اطمینان پیدا کرتا ہے حقیقت یہ ہے کہ مسلمانوں کے باہمی تفرقہ دشمنی کیتہ، بغض اور گمراہی کی لہروں نے میری روح کو تاریک کر دیا تھا۔ان کتب نے اپنی تو رانی شعاعوں سے اُسے روشن اور منور کر دیا ہے۔کہیں نے یہ بھی دیکھا کہ آپ کی جماعت ان تمرا ہیوں سے پاک ہے ، خاتم الخلفاء والمجددین حضرت احمد سیح موعودہ کی کتاب اسلامی اصول کی فلاسفی نے میری پسندیدگی کے جذبات کو عروج پر پہنچا دیا۔یہ کتاب اپنے دلائل کی جدت کے ساتھ ساتھ بہت کم صفحات پر مشتمل ہے۔یہ ایک علمی خزانہ ہے جس کا ہر ایک لفظ دوسرے لوگوں کے ہزار لفظ کے برا ہی ہے۔اس امر کو میں اپنی خوش قسمتی اور عزت و شرف کا موجب سمجھتا ہوں کہ میں آپ کی خدمت میں اس غرض سے خط لکھ رہا ہوں کہ میں جماعت احمدیہ اور اس کے لڑیچر کے متعلق اپنے ان جذبات کا اظہار