تاریخ احمدیت (جلد 17) — Page 346
۳۴۶ علیہ وسلم کے حلقہ غلامی میں داخل ہوئے تھے۔اس وفد کے امیر اور الجمعية الخيرية للتعليم والاسعاف بیروت کے پرنسپل جناب الشیخ محمد عددہ کا حال یہ تھا کہ جب پہلے دن وہ مشن ہاؤس میں آئے اور مبلغ لائبیر بانے انہیں حضرت مسیح موعود علیہ اسلام کے دعونی مسیحیت و مهدویت کے بارہ میں بتایا تو وہ لاحول پڑھنے لگے اور کہا کہ یہ بات کیسے ممکن ہوسکتی لیکن رفتہ رفتہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے اُن میں نمایاں تبدیلی آگئی اور انہوں نے بال آخرت کیا کہ جماعت احمدیہ کے عقائد میں کوئی خلاف قرآن بات نہیں۔نه الشيخ لطفی عامر صاحب نے اسلامی اصول کی فلاسفی کے اقتباسات پر مشتمل بارہ صفحات کا ایک مضمون بھی مرتب کیا اور کہا کہ وہ اسے اپنی تقریروں میں بیان کریں گے اور جرائد میں بھی شائع کرائیں گے لیے۔ان علما نے احمدیہ مشن کی دینی خدمات پر میلہ انبیریا کو اپنے ادارہ کی فیلوشپ کی سند بھی دی اور حضرت خلیفۃ المسیح الثالث رضی اللہ عنہ کو عقیدت بھرے الفاظ میں مکتوب لکھا جس کا متن اس باب کے آخر میں دیا جارہا ہے۔اس لبنانی وفد کی لائبیریا میں آمد، صدر مملکت لائبیریا سے ملاقات ، اور احمد یہ مشن ہاؤس میں آمد کا مفصل ذکر پر یس نے کیا۔چنانچہ اخبار نے لکھا :- "The two Arabian Muslim Preachers: Sheik Loutfi Amer and Sheik Mohamed Adra are currently nere on a spiritual visit: Last week; they visited the Ahmadiyya Muslim Mission; on Lynch Street where they were welcomed by the head of the Mission; Maulvi Rashid Uddin; in a spiritual mood preceded by a grand reception۔۔۔At the Mission they were presented copies of the English translation of the Holy Quran and other Islamic Literature which they examined and lauded as work of great men۔The Sheiks are sheduled to leave early next week for the second leg of their tour in Senegal۔They have already visited Ghana۔" ے ماخوذ از بر پورت جمهوری رشید الدین صاحب مبلغ لائبیریا خدمت حضرت خلیفة المسیح الالم زاده ۱۲ جولائی لاء۔ماخود از