تاریخ احمدیت (جلد 17) — Page 260
۲۶۰ W تھیں اور حسرت کرتے ہوئے دُنیا سے چلی گئیں۔کیسا فضل واحسان ہے اس ذات باری کا کہ ہمیں یہ زمانہ میسر ہوا، اور ہمیں اُس جہاد میں شامل کیا گیا جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے یہ در حضرت مسیح موعود والمهدی مسعود علی الصلوۃ والسلام کا شیطان کے مقابلہ میں ہوتا مقدر تھا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ذریعہ اور پہلے نبیوں کے نوشتوں میں بتایا گیا تھا کہ حضرت مسیح موعود اور آپ کے متبعین کے مقابلہ میں شیطان اپنی تمام طاقت کے ساتھ برسر پیکار ہو گا۔اور یہ شیطان کی آخری جنگ ہوگی جس میں حضرت مسیح موعود اور آپ کے متبعین غالب آئیں گے اور شیطان کا زور توڑ دیا جائے گا۔پس اسے احمدی جماعت ! اس مبارک جنگ کے لئے اخرین مِنْهُمْ کی مصداق ہو کر آنحضرت ل للہ علیہ وسلم کے یہ حضرت میں موعود علیہ اسلام کے جھنڈے کے نیچے لانے کے لئے تیرا انتخاب مبارک ہو۔اس پر جس قدر فخر کیا جائے بجا ہے۔لیکن جس قدر کسی پر کوئی انعام ہوتا ہے۔اسی قدر اس پر ذمہ داری بھی عائد ہو جاتی ہے، گو یہ ذمہ داری اس انعام کے قابلہ میں کچھ بھی حقیقت نہیں رکھتی جو تمام کہ ایران آباد کے لئے اس صلہ میں حاصل ہوتا ہے۔یہ جہاد تیر و تفنگ کے ساتھ نہیں بلکہ یہ ثابت کرنے کے لئے ہے کہ اسلام کی ترقی کا رانہ اس کا قدرتی حسن و کمال اور اس کے پاک تاثیرات ہیں۔جس نے دنیا کی حالت کا نقشہ بدل دیا تھا اور اسی طرح اب بھی اسلام ترقی کرے گا چنانچہ حضرت مسیح موعود علی اسلام نے ثابت کہ دیا کہ اسلام تلوار سے نہیں بلکہ ہر بان نیرہ اور دلائل قاطعہ اور اپنے ذاتی حسن و کمال سے بڑھا اور پھیلا ہے کیونکہ میں نے اس کی توبیوں کو دیکھا اور اس کا پھل کھایا۔اس کی نظر میں دنیا و مافیہا ایک نہایت حقیر چیز نظر آئی۔اس کے لئے دنیا کی کوئی طاقت یا خوبصورتی ایسی نہ تھی جو اس کے مقابلہ میں مرعوب اور گرویدہ بنا سکے۔اور دکھلا دیا کہ اس کی ذاتی کشش ہی تھی جو پہلے اور اب دنیا کو اپنا حلقہ بگوش بنائے چلی جارہی ہے۔پس یہ خدا کا برگزیدہ دنیا میں آیا اور تھوڑے ہی عرصہ میں حیرت انگیز تبدیل کر کے دنیا سے رخصت ہوا۔اور اپنے بقیہ کام کی تکمیل سنت اللہ کے ماتحت متبعین کے لئے چھوڑ گیا۔اب اے احمدی جماعت ! ہاں وہ جماعت جسے تیرہ سو سال پیشتر سے خدا تعالیٰ نے اخَرِينَ مت کے وعدے کے مطابق صحابہ کے ساتھ شامل فرمایا ہے۔تیرا فرض ہے کہ تو غور کرے کہ کس قدر انعام و احسان ہے کہ خدا نے اپنے وعدے کے مطابق اپنے کام کے لئے تجھے چنا ہے تا دیکھے کہ تو بھی صحابہ کی