تاریخ احمدیت (جلد 17)

by Other Authors

Page 258 of 578

تاریخ احمدیت (جلد 17) — Page 258

۲۵۸ بنیں تو حضرت صاحب نے انہیں ناظر بیت المال مقریہ فرما دیا جس کام کو انہوں نے بڑی سرگرمی اور توجہ کے ساتھ نبھایا اور اس کے بعد کئی سال تک ناظر دعوت و تبلیغ بھی رہے۔اور انجمن کی طرف سے ریٹائر ہونے پر کچھ عرصہ تحریک جدید میں بھی کام کیا۔طبیعت بہت نرم پائی تھی اور کسی کی دُکھ کی داستان سُن کر دل فوراً پسیج جاتا تھا۔اور ایسے موقعوں پر بعض اوقات اتنی نرمی کر بیٹھتے تھے جو نظم وضبط کے لحاظ سے درست نہیں سمجھی جاتی تھی۔مگر یہ کمزوری بھی ان کی شرافت اور رحم دلی کا نتیجہ تھی مزاج میں تصوف کا رنگ تھا اور اردو اور فارسی ادب کے ساتھ بھی اچھا شغف تھا۔اور اردو کے بہت سے شعراء کا کلام یاد تھا۔مزاج میں بہت سادگی تھی اور دوست تو از بھی بہت تھے۔یہیں جب بھی اُن کے مکان پر جانا تو بڑی محبت سے مہمان نوازی کا حق ادا کرتے ہی جناب گیانی عباداللہ صاحب سکالر سکھ لڑیچر نے چشم دید جناب گیانی عبداللہ ان کا بیان واقعات کے نام پر بتایا کہ :۔بناء " مجھے حضرت مولوی صاحب مکرم سے ۱۹۳۶ء سے جب کہ آپ نظارت بیت المال سے تبدیل ہو کر ناظر دعوة وتبلیغ مقرر ہوئے۔اب تک تعلق رہا ہے۔اور اس لیے عرصہ میں مجھے آپ کو قریب سے دیکھنے کے بھی کئی مواقع میسر آئے۔آپ کی گفتار اور کردار سے ہمیشہ نیکی اور تقویٰ ہی ظاہر ہوا۔آپ کے دل میں غیر مسلم قوموں میں تبلیغ اسلام کا بہت خوش تھا۔آپ کی یہ تڑپ تھی کہ ہندوستان کی ہندو اور سکھ وغیرہ غیر مسلم تو میں جلد سے جلد حلقہ بگوش اسلام ہوں اور حضرت مسیح موجود میز سلام کی ان پیش گوئیوں کو پورا کرنے والی نہیں جو حضور نے غیر مسلم قوموں خصوصا ہندووں اور سکھوں کے اسلام قبول کرنے کے بارہ میں فرمائی ہوئی ہیں۔اس سلسلہ میں ہمیشہ آپ کی یہ کوشش رہی تھی کہ سلسلہ عالیہ احمدیہ کی طرف سے اچھے سے اچھا ، اعلیٰ سے اعلیٰ ہندی اور گورمکھی لٹریچر شائع ہو تاکہ زبان کی غیریت کی بناء پر ہندو اور سکھ اسلام ایسی نعمت سے محروم نہ رہیں۔آپ جتنا عرصہ نظارت دعوت وتبلیغ میں ناظر ر ہے آپ کی اس طرف خاص توجہ رہی آپ کو جہاں یہ خصوصیت حاصل ہے کہ آپ سلسلہ عالیہ احمدیہ کے پہلے ناظر بیت المال تھے وہاں آپ کو یہ امتیازہ بھی حاصل ہے کہ آپ کے زمانہ میں نظارت دعوت و تبلیغ کی طرف سے له الفصل 14 ستمبر ۱۹۵۵ء ص۳