تاریخ احمدیت (جلد 17)

by Other Authors

Page 241 of 578

تاریخ احمدیت (جلد 17) — Page 241

کے طور پر کام کرنے کی سعادت میسر آئی۔علاوہ ازیں تعلیم و تربیت ، امور عامہ اور امور خارجہ کے شعبوں میں آپ نے ناظر کی حیثیت سے نہایت گرانقدر خدمات سرانجام دیں نیز کچھ عرصہ آپ نے انگریزی ترجمة القرآن کا کام بھی کیا۔اور ایڈیشنل ناظر اعلی کے فرائض بھی سر انجام دیئے۔عرصہ دراز سے آپ ناظر امور خارجہ کے طور پر خدمات بجالا رہے تھے۔حتی کہ وفات سے کچھ دیر قبل تک آپ دفتر میں مفقوضہ فرائض کی سرانجام دہی میں مصروف تھے۔اور کام کے دوران میں آپ کو ضعف کا شدید دورہ ہوا جس سے آپ جانبر نہ ہو سکے۔اور دو گھنٹے کی مختصر علالت کے بعد جان جان آفرین کے سپرد کر دی۔نور الله قدة۔حضرت درد صاحب مرحوم نے اپنی زندگی جہاں خدمت اسلام کے لئے وقف کئے رکھی۔وہاں آپ نے مسلمانان ہند کی بھی کچھ کم خدمات سر انجام نہیں دیں۔جب سید نا حضرت خلیفہ المسیح الثانی میں کشمیر کمیٹی کے صدر منتخب ہوئے اور کشمیر میں آزادی کی مہم کا پوری شدت سے آغاز ہوا۔تو اسی زمانے میں محترم درد صاحب مرحوم نے کشمیر کمیٹی کے سیکرٹری کی حیثیت سے مسلمانان کشمیر کی بیش بہا خدمات سرانجام دیں۔ایک زمانے میں آپ آل انڈیا مسلم لیگ کونسل کے رکن کے طور پر بھی خدمات بجالاتے رہے۔پھر ۱۹۳ء میں جبکہ آپ انگلستان میں تھے۔آپ نے وہاں قائد اعظم مسٹر محمد علی جناح مرحوم سے تعدد ملاقاتیں کہیں اور انہیں ہندوستان واپس جا کہ مسلمانوں کی سیاسی قیادت سنبھالنے پر آمادہ کیا۔چنانچہ قائد اعظم مرحوم نے واپس آنے سے قبل جب ، اپریل ۱۹۳۳ء کو مسجد احمدیہ لندن میں عبید الا ضحی کے موقع پر ہندستان کے مستقبل کے متعلق تقریر فرمائی تو اس کے ابتداء میں محترم درو صاحب کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا۔امام مسجد نے مجھے ترغیب دی اور اس ترغیب میں ان کی فصاحت و بلاغت نے میرے لئے کوئی راہ فرار نہیں چھوڑی۔ان کی پرزور تحریک کی وجہ سے کہیں سیاسی سٹیج پر کھڑا ہونے کے لئے مجبور ہوا ہوں۔ان کے انگریزی الفاظ یہ تھے ☑ “THE ELOQUENT PERSUATION OF THE IMAM LEFT ME NO ESCAPE,“ ے انقلاب عظیم کے متعلق اندار و یشارات صدا از حضرت سید ولی اللہ شاہ صاحب۔