تاریخ احمدیت (جلد 17)

by Other Authors

Page 233 of 578

تاریخ احمدیت (جلد 17) — Page 233

سائنس میں کو ٹلے ویل میموریل سلور میڈل کا انعام اور لارڈ لارنس سکالر شپ بھی حاصل کئے علاوہ ازیں وٹرنری سرتیری و میڈیسن اور اینائمی و فتر یا لوجی اور بود ائن پتھالوجی کے سہرسہ مضامین میں بھی آپ نے علیحدہ علیحدہ فرسٹ پر ائمہ حاصل کئے۔ان سب انعامات کو جب آپ نے حضرت مسیح موعود نا یا اسلام کے حضور پیش کیا۔تو حضرت اقدس ملاحظہ فرما کہ بہت خوش ہوئے۔خلاف توقع آپ کے شاندار طور پر کالج میں کامیاب ہوتے اور اول آنے کے معجزہ کو دیکھ کہ آپ کے ایک ہم جماعت راجہ فضل دین صاحب بھی حضرت مسیح موعود علیہ اسلام کی بعیت کر کے داخل احمدیت ہوئے۔وٹرنری کالج سے کامیاب ہو کہ جنگ یوگنڈا کے سلسلہ میں آپ افریقہ چلے گئے۔اور افریقہ سے واپسی پر نشہ میں گورنمنٹ کیٹل فارم حصار میں آپ کی تعیناتی وٹرنری اسسٹنٹ کے طور پر ہوگئی۔پھر آپ ترقی کر کے فارم او در سیر ہو گئے۔اور بعد ازاں ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ ہو گئے حصار میں آپ ء سے ۱۹۳۶ء یعنی پچیس سال تعینات رہے حصار سے تبدیل ہو کہ فیروز پور چھاؤنی، پھر لائل پور ساڑھے تین سال منٹگمری اور بیر پانچ سال رہتک میں یہ عہدہ ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ تعینات رہے۔جہاں سے جنوری ۱۳۷ہ میں آپ پنجاب دوتری سروس سے ریٹاٹرہ ہوئے۔اسی سال آپ کوشن کار کردگی کے نتیجہ میں گورنمنٹ کی طرف سے خانصاحب " کا خطاب دیا گیا۔چونکہ آپ کا کنبہ بڑا تھا اور ابھی کا فی بال بچے مکمسن تھے۔اس لئے مزیدہ ملازمت کی اشد ضرورت آپ کو محسوس ہوئی۔چنانچہ کچھ عرصہ بعد نائباً ۱۹۳۶ء کے آخر میں آپ ریاست بھوپال میں ایمیل سر بینڈری اور وٹرنری آفیسر مقرر ہو گئے۔جہاں سے گیارہ سال کی ملازمت کے برا میں بعد تقسیم برصغیر آپ ریٹائر ہوئے۔ریاست بھوپال سے ریٹائر ہو کر آپ اور میں پاکستان آگئے اور موضع بھلوال ضلع سرگودھا میں بغرض آباد کاری چلے گئے۔بھلوال میں جانے کی وجہ یہ بھی کہ آپ کے ایک بڑے بھائی سید احمد شاہ صاحب نے آپ کو وہاں بلایا تھا اور زمین وغیرہ کی الاٹمنٹ کے حصول میں آپ کو تقریبا ڈیڑھ سال کا عرصہ لگا۔بحیثیت، ریفیوجی آپ نے جو عرصہ بھلوال میں گزارا اس میں آپ کی صحت دن بدن گرتی چلی گئی۔اپریل شراء میں بمقام ربوہ جو پہلا جلسہ سالانہ منعقد ہوا تھا۔اس میں شامل ہوتے تھے لیکن اس کے بعد صحت اس قابل نہ رہی تھی۔کہ موسم سرما کے جلسوں میں شرکت کر سکتے۔بھلوال کا قیام آپ کا ضعیفی اور کمزوری کا دور تھا۔تاہم آپ اپنے سوانح حیات مرتب کرتے رہتے تھے۔شاہ کے موسم گرما میں آپ ایک مرتبہ میرے ہمراہ لائل پور سے ربوہ تشریف لے گئے تھے ؟ ۱۴۸