تاریخ احمدیت (جلد 17)

by Other Authors

Page 205 of 578

تاریخ احمدیت (جلد 17) — Page 205

۲۰۵ میں عمران بینگ میں لکے نوٹی ایسوسی ایشن بٹالہ نے متفقہ رائے سے ان کو اپنی الیسوسی ایشن کا مد منتخب کیا۔کچھ عرصہ کے بعد کے زئی برادری نے محض احمدیت کی وجہ سے انہیں صدرات سے الگ کر دیا۔حکیم صاحب نے اطلاع بھجوائی کہ میں پریذیڈنسی کی پرواہ نہیں کرتا۔بلکہ میری بھی چھوڑتا ہوں حکیم صاحب کی طبیعت میں اپنے عقائد میں از حد پختگی تھی۔وہ بلا خوف لومة لائم اپنے اصول کے مطابق عمل کرتے تھے۔اور اس میں کیا شک ہے کہ یہ بڑا مشکل کام ہے۔بٹالہ میں حکیم صاحب مرحوم کی ذات مرجع خواص و عام تھی۔خاندانی عزت کے علاوہ ذاتی وجاہت ، حسن اخلاق ، مہمان نوازی اور پھر ان کی حذاقت طب کی وجہ سے لوگ کھینچے چلے آتے تھے۔بٹالہ میں ان کے مکان پر اکا بر سلسلہ اکثر آتے جاتے رہتے تھے۔حکیم صاحب متقی اور پرہیز گار بزرگ تھے۔تہجد کی نماز دقات تک باقاعدہ ادا کرتے رہے۔دعاؤں پر مداومت کرتے تھے۔۔ہمیشہ خطوں میں لکھتے رہتے کہ میرے لئے دعا کرو کہ خدا میرا انجام بخیر کرے۔اور سچ یہ ہے کہ یہ سب سے جامع دعا ہے خود بڑے مستجاب الدعوات تھے۔فرمایا کرتے تھے کہ ایسا کبھی نہیں ہوا کہ خدا نے میری دعا قبول نہ کی ہو۔۔۔۔۔طبیعت میں انکساری اور عاجزی بے حد تھی۔رقیق القلب تھے۔لیکن صابر و شاکر بھی انتہا درجے کے تھے۔حکیم فضل الرحمن صاحب مرحوم مجاہد افریقہ کوئی ۱۶ سال مسلسل بحیثیت مبلغ افریقہ باہر رہے ، ان کی عدم موجودگی میں محکم فضل الحق صاحب کی بیٹی (زوجہ حکیم فضل الرحمن صاحب مرحوم ) اپنے والد کے پاس رہیں۔خاوند سے علیحدگی جہاں بیوی بچوں کے لئے ایک مسلسل امتحان تھا۔وہاں لڑکی کی حالت بوڑھے باپ کے لئے بھی بہت تکلیف کا موجب تھی۔لیکن مرحوم صبر سے برداشت کرتے رہے۔اور دعاؤں پر تکیہ کیا پھر قسیم ملک پر اپنی لاکھوں روپے کی جائیداد چھوڑ کر جب پاکستان آئے تو کوئی مکان یا دوکان الاٹ نہ ہوئی اور نہ وظیفہ ملا۔ایک رشتہ دار نے از خود کچھ زمین الاٹ کرا دی۔لیکن مرحوم کے استغناء کا یہ عالم تھا کہ کبھی جاکہ اتنا بھی بنتنہ نہ کیا کہ نہ مین کہاں ہے ؟ اور اس کی کیا آمدنی ہے ؟ مرحوم نے فن طب محض ایک شغل کے طور پر سیکھا ، خود ہی مطالعہ سے طب میں اتنی دستگاہ حاصل کر لی کہ دور دور سے مریض آتے تھے۔ہاتھ میں شفا تھی۔علاج کے ساتھ دعا بھی کرتے تھے۔طب کی کتب کا مطالعہ اس وقت نظر سے کیا کہ کتابوں پر ان کے ہاتھ سے لکھے ہوئے بے شمار نوٹ موجود ہیں۔ہر کتاب کے ہر صفحہ میں خالی کاغذ لگوائے ہوئے تھے جن پر اپنے تجربہ اور مطالعہ کے نتائج توٹ کی صورت میں