تاریخ احمدیت (جلد 17) — Page 200
چو ہدریوں کی طرح جاہ طلبی تکرار اور نخوت آپ کی طبیعت میں بالکل نہیں تھا۔اور چودھراہٹ کا خمار کبھی اس نیک قطرت اور باکمال انسان پر اثر اندازہ نہ ہوا۔آپ نے انسانی مساوات کا عملی سبق زندگی بھر پیش کیا۔اور تبلیغ احمدیت کا والہانہ جوش ہمیشہ ان کے دل میں موجنون تھا۔افضل اور کتب سلسلہ پڑھنے کا عشق اپنے اندر رکھتے تھے۔شاید یہی وجہ تھی کہ آپ ادبی اعتبار سے بہت اچھی اردو لکھ سکتے تھے۔اور خوش نویس تھے۔غرض ہر بات ہر کردار اور ہر شعبہ زندگی میں صفائی نظافت اور نجیبانه کمال حاصل تھا۔۔۔۔۔محترم چوہدری صاحب کو حضرت مولوی عبد اللہ صاحب مرحوم و مغفور آفت کھیوہ باجوہ ضلع سیالکوٹ کی پاکیزہ صحبت کا کافی شرف حاصل تھا۔جو تبحر علمی کے لحاظ سے عظیم الشان فاضل تھے۔کچھ اس کا نتیجہ تھا اور کچھ ذاتی استعداد کے باعث محترم چوہدری صاحب بعد بدر علوم اور فلسفیا نظریات کو بخوبی سمجھتے اور سمجھا سکتے تھے۔آپ نے احمدیت کو ملی وجہ البصیرت سمجھا اور قبول کیا تھا۔آپ کو حضرت مصلح موعودؓ سے بے مثال اور قابل رشک محبت بلکہ عشق تھائیے - ۳- حضرت ڈاکٹر فیض علی حیات صابر پنشنر اسسٹنٹ کمر مین بہاول پور رولادت ۱۳۹۳ ه مطابق شعراء بعیت ماریه - وفات ۱ جنوری شاری (۔حضرت ڈاکٹر فیض علی صاحب صابر کے والد مولوی عبد الغنی صاحب کا اصل وطن حجرہ شاہ مقیم تحصیل قصور تھا۔مولوی صاحب موصوف بچپن میں تقسیم اور تنہا رہ گئے اور امرتسر میں اپنے رشتہ کے ایک چچا کے ہاں رجو ایک متمول سکھ سردار تھے ) پرورش پائی۔آپ کا پہلا نام سردانہ روپ سنگھ تھا۔آپ نے دس سال کی عمر میں اسلام قبول کیا۔آپ مشہور اہل حدیث عالم مولوی غلام علی صاحب قصوری کے تمتاز شاگرد اور جید عالم تھے۔انبالہ میں عربی اور فارسی کے معلم رہے۔اور پچاسی سال سے کچھ اوپر کر پائی۔اہلیہ کا نام حصہ بیان بی بی تھا مولوی عبدالغنی صاحب کی اولاد چھے بیٹے اور ایک بیٹی تھی۔جو سب اُن کی وفات کے بع۔نہایت له الفضل لم۔مارچ ١٩٥٥ء منه۔سے الحکم اور مارچ فٹ بہشتی مقبرہ قادیان میں مدفون ہیں۔