تاریخ احمدیت (جلد 17) — Page 199
١٩٩ گاؤں میں نمبر دار تھے اور اپنے فرائض کو نہایت خوش اسلوبی سے ادا کیا کرتے تھے۔اسی طرح خدمت سلسلہ کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہ دیتے تھے۔سلسلہ کے مبلغ اور کارکن جب مرکز سے تشریف لاتے اُن کے ساتھ نہایت محبت اور الفت سے پیش آتے اور ہر ممکن خدمت کرتے۔اپنی جماعت کے پریذیڈنٹ تھے۔اس سے قبل عرصہ تک سیکریٹری مال بھی رہے۔ایک دوست کا بیان ہے کہ ہماری جماعت کے ذمہ خاصہ بقایا ہو گیا تھا تو مرحوم کو سیکرٹری مال بنا دیا گیا۔آپ نے اس خوش اسلوبی اور محنت سے کام کیا کہ جماعت میں ایک شخص بھی بقایا دار نہ رہا۔پُر جوش داعی الی اللہ تھے۔کسی مجلس میں بھی تبلیغ کا موقع ہاتھ سے نہ جانے دیتے۔حضرت مسیح موعود علیہ سلام کے خاندان سے آپ کو بہت الفت تھی۔قدرت ثانیہ کے مظاہر کی قبولیت دعا کے کئی واقعات بیان فرمایا کرتے تھے۔آپ دفتر اول تحریک جدید کے مجاہدوں میں شامل تھے یہ شیخ نور احمد صاحب ایڈووکیٹ رمزنگ روڈلاہور ) کا بیان ہے کہ " حضرت چوہدری صاحب موصوف کو میں نے بچپن سے دیکھا اور مطالعہ کیا۔یہ امر واقعی حیرت انگیز ہے کہ آپ کو قدرت این دی نے غیر معمولی استعدادوں سے اور خاص صلاحیتوں سے حصہ وافر عطا یا تھا وہ اپنے اندر ایسی قابلیتیں اور خصائل رکھتے تھے کہ ان کو بلا مبالغہ ایک مثالی انسان کہا جا سکتا ہے۔حیرت آتی ہے کہ ایک گاؤں میں پیدا ہونے والا اور صرف پرائمری تک تعلیم رکھنے والا زمیندار کس قدر معاملہ فہم، مدبر اور متانت کا اعلیٰ نمونہ تھا۔آپ کی طبیعت میں انتہائی انکسار اور عجز تھا۔نہایت رقیق القلب تھے اور امام الزمان حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے عظیم الشان روحانی فیض سے صحیح معنوں میں تربیت یافتہ ہونے کا زندگی بھر عملی نمونہ پیش کرنے والے افراد میں شمار کئے جانے کے قابل تھے۔اللہ تعالیٰ کی محبت اور اس پر کامل یقین کا بہترین نمونہ آپ نے پیش کیا۔بعض دفعہ انتہائی پریشانیوں سے بھی دو چار ہوتا پڑا لیکن خدا داد وقار اور وجاہت کو کبھی ہاتھ سے نہ جانے دیا۔دشمنوں سے بھی باوقار اور مدبرانہ برتاؤ رکھتے تھے۔اور غریموں کی دستگیری محض رضائے الہی کے لئے اپنی قلبی کیفیت کے ماتحت کرتے تھے۔۔۔له الفضل ۲ مارچ ۱۵۵ مه