تاریخ احمدیت (جلد 17)

by Other Authors

Page 173 of 578

تاریخ احمدیت (جلد 17) — Page 173

۱۷۳ دنوں کے لئے بھی کام نکالنے چاہئیں جن میں خدمت خلق ہو سکے اور لوگوں کی تکلیفوں کو وہ دور کر سکیں۔پس اس کو ہمیشہ یاد رکھو جیسا کہ میں نے بتایا ہے آج تک یورپ اور امریکہ اس خاصیت خلق کی روح کو اسلام کے خلاف اپنی عظمت میں پیش کرتے ہیں۔کہتے ہیں کہ عیسائی بڑی خدمت کرتے ہیں مسلمان نہیں کرتے اور شرم کی بات ہے کہ ہم ان کا جواب نہیں دے سکتے، اگر ہماری جماعت کے خدام الاحمدیہ اور انصار اللہ خدمت خلق کا اعلیٰ درجہ کا نمونہ پیش کر یں تو ہم یورپ اور امریکیہ کے منہ بند کر سکتے ہیں اور کہہ سکتے ہیں کہ جو تم خدمت کرتے ہو اس سے بڑھ کر خدمت کرنے والے ہم ہیں۔یہ مت خیال کرو کہ لوگ قدر نہیں کرتے ، قدر کرنے والے لوگ بھی موجود ہوتے ہیں مثلاً ڈاکٹر خانصاحب جو ہمارے وزیر اعلیٰ ہیں وہ سیالکوٹ گئے تو خدام نے ان کی طرف لکھا کہ ہم اس طرح کام کہ رہے ہیں انہوں نے جیسا کہ افسروں کا قاعدہ ہوتا ہے وہ رقعہ ڈپٹی کمشنر کو دے دیا۔ڈپٹی کمشنر نے کہا ہاں واقعہ میں یہ بہت خدمت کر رہے ہیں۔اس پر ڈاکٹر خان صاحب نے کہا افسوس ہے یہ لوگ خدمت خلق کرتے ہیں لیکن لوگ ان کو آگے نہیں آنے دیتے تو دیکھو وزیر اعلی کو تسلیم کرنا پڑا کہ تم قدمت خلق کر رہے ہو (ب) قادیان میں ہمارے گل تین سو آدمی ہیں۔یہاں ایک ضلع میں ہمارا آٹھ آٹھ سو آدمی گیا ہے، مگر وہاں ہے ہی ساری آبادی تین سو۔تین سو میں سے پچاس ساٹھ آدمی طونان کے موقع پر باہر گئے تھے لیکن دو وزراء نے تحریراً شکریہ کے خطوط بھیجوائے کہ آپ لوگوں نے بڑی خدمت کی ہے۔اس طرح انسپکٹر جنرل پولیس نے شکریہ ادا کیا اور بعض اخبارات نے اس پر نوٹ لکھے۔اخبارات نے تو یہاں بھی شرافت سے کام لیا اور وہ جماعت کی خدمت کو پیش کرتے رہے گو ڈرتے بھی رہے۔وہ ساتھ ساتھ دوسری جماعتوں کا نام بھی لکھ دیتے تھے جن کے بعض دفعہ کچھ بھی آدمی نہیں ہوتے تھے نہیں خدمت کی اس روح کو قیامت تک جاری رکھو۔یاد رکھو زندگی کا مقصد بھی یہی ہے کہ اللہ سے محبت کی جائے اور بنی نوع انسان کے ساتھ نیک سلوک کیا جائے۔اگر اس روح کو قائم رکھوگے تو تمہاری کامیابی اور تمہاری ترقی میں کوئی شبہ نہیں۔ه روزنامه الفضل ربوه ۱۴ فروری ۱۵۶ م - سے ایضاً